Pages

تمہید

پیر، 26 مئی، 2014

تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا - مولوی اسماعیل میرٹھی

تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا
کیسی زمیں بنائی ،کیا آسماں بنایا

پانو تلے بچھایا کیا خوب فرشِ خاکی
اور سر پہ لاجوردی اِک سائباں بنایا

مٹی سے بیل بوٹے کیا خوشنما اگائے
پہنا کے سبز خلعت ان کو جواں بنایا

خوش رنگ اور خوشبو گُل پھول ہیں کھلائے
اِس خاک کے کھنڈر کو کیا گلستاں بنایا

میوے لگائے کیا کیا، خوش ذائقہ رسیلے
چکھنے سے جن کے مجھ کو شیریں دہاں بنایا

سورج سے ہم نے پائی گرمی بھی روشنی بھی
کیا خوب چشمہ تو نے اے مہرباں بنایا

سورج بنا کے تُو نے رونق جہاں کو بخشی
رہنے کو یہ ہمارے اچھا مکاں بنایا

پیاسی زمیں کے منہ میں مینہ کا چوایا پانی
اور بادلوں کو تُو نے مینہ کا نشاں بنایا

یہ پیاری پیاری چڑیاں پھرتی ہیں جو چہکتی
قدرت نے تیری اِن کو تسبیح خواں بنایا

تنکے اٹھا اٹھا کر لائیں کہاں کہاں سے
کس خوبصورتی سے پھر آشیاں بنایا

اونچی اُڑیں ہوا میں بچوں کو پر نہ بھولیں
اُن بے پروں کا اِن کو روزی رساں بنایا

کیا دودھ دینے والی گائیں بنائی تو نے
چڑھنے کو میرے گھوڑا کیا خوش عناں بنایا

رحمت سے تیری کیا کیا ہیں نعمتیں میّسر
ان نعمتوں کا مجھ کو ہے قدر داں بنایا

آبِ رواں کے اندر مچھلی بنائی تو نے
مچھلی کے تیرنے کو آبِ رواں بنایا

ہر چیز سے ہے تیری کاری گری ٹپکتی
یہ کارخانہ تونے کب رائیگاں بنایا

  اسماعیل میرٹھی
مکمل تحریر >>

تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو - حکیم مومن خان مومن

وہ جو ہم میں تُم میں قرار تھا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

وہی یعنی وعدہ نِباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

وہ جو لُطف مجھ پہ تھے پیشتر، وہ کرم کہ تھا مِرے حال پر
مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہ نئے گِلے، شکائتیں، وہ مزے مزے کی حکائتیں
وہ ہر ایک بات پہ رُوٹھنا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
کبھی بیٹھے سب میں جو رُوبرو، تو اشارتوں ہی سے گفتگو
وہ بیان شوق کا بَرملا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
کوئی بات ایسی اگر ہوئی کہ تمہارے جی کو بُری لگی
تو بیاں سے پہلے ہی بھولنا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
کبھی ہم میں تم میں بھی چاہ تھی، کبھی ہم کو تُم سے بھی راہ تھی
کبھی ہم بھی تم تھے آشنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
سُنو ذکر ہے کئی سال کا، کہ کیا اِک آپ نے وعدہ تھا
سو نباہنے کا تو ذِکر کیا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہ بگڑنا وصل کی رات کا، وہ نہ ماننا کسی بات کا
وہ نہیں نہیں کہ ہر آن ادا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
جسے آپ گِنتے تھے آشنا، جسے آپ کہتے تھے با وفا
میں وہی ہوں مومن مُبتلا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو


مکمل تحریر >>

وہی کارواں وہی قافلہ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو - مولوی اسماعیل میرٹھی

 مولوی اسماعیل میرٹھی نے  تین نظمیں ایسی ترتیب دیں کہ بچوں کے لئے عربی اور فارسی کے الفاظ جو کہ اردو میں عام طور سے مستعمل ہیں انکے مترادفات انکے ساتھ  سامنے آجائیں جو کہ روزمرہ کی زبان میں عام ہیں۔ اس میں مولانا نے جگہ جگہ غالب کے قادر نامہ سے استفادہ کیا ہے۔
 ایک نظم حکیم مومن خان مومنؔ کی زمین میں ہے۔ مومن نے ’تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو‘ کی ترکیب کو رومانوی انداز میں لکھا تھا ۔


مولوی اسماعیل میرٹھی نے اسکو بچوں کو سبق پڑھانے اور انکو آموختہ کرانے کے تناظر میں اس ترکیب کو ایک بالکل نئی صورت میں پیش کیا ہے۔ دوسرے شعر میں مولانا نے نظم کی بحر بیان کردی ہے جو کہ بحر کامل کا وہ وزن ہے جس میں ہر مصرع میں چار ارکان پورے پورے ہوتے ہیں اس لئے اسکو بحر کامل مثمن کہا جاتا ہے۔ یہاں مولانا کا مقصد یہ ہے کہ بچے شروع ہی میں شعر کی شعریت اور وزن کا شعور حاصل کر لیں:
وہی کارواں وہی  قافلہ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہی منزل اور وہی مرحلہ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
متفاعلُن،  متفاعلن،  متفاعلُن، متفاعلُن
اسے وزن کہتے ہیں شعر کا  تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہی شُکر ہے جو سِپاس ہے، وہ مُلول ہے جو اُداس ہے
جسے شِکوہ کہتے ہو ہے گلہ  ،    تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہی نقص ہے وہی کھوٹ ہے وہی ضرب ہے وہی چوٹ ہے
وہی سود ہے وہی فائدہ،   تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہی ہے ندی وہی نہر ہے وہی موج ہے وہی لہر ہے
یہ حباب ہے وہی بُلبُلہ، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہی کِذب ہے وہی جھوٹ ہے وہی جُرعہ ہے وہی گھونٹ ہے
وہی جوش ہے وہی وَلوَلہ،  تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

مکمل تحریر >>

مولوی اسمٰعیل میرٹھی

مولوی اسمٰعیل میرٹھی
                          

             مولانا  ا سمٰعیل  ۱۲ نومبر ۱۸۴۴ء کو میرٹھ میں پیدا ہوئے۔ میرٹھ کا وہ محلہ جس میں مولانا کا آبائی گھر تھا اب اسمٰعیل نگر کہلاتا ہے۔ مولانا کے خاندان کے ایک بزرگ قاضی حمید الدین، بابر کے ساتھ اس وقت ہندوستان آئے تھے جب بابر نے اپنے تیسرے حملہ میں اس ملک کو فتح کیا تھا۔ بعد میں ان کا خاندان میرٹھ میں آباد ہو گیا۔ اس خاندان کے افراد اپنے علم و فضل کی بنا پر ممتاز رہے اور ان میں اکثر مغل بادشاہوں کے ہاں اعلیٰ عہدوں پر مقرر ہوئے۔
 فارسی زبان کی ایک  لُغت ’بُرہانِ قاطع‘ ہے۔ مرزا غالب نے اس کتاب کی غلطیاں اپنی ایک تصنیف ’قاطعِ  بُرہان‘ میں بیان کی تھیں۔ مولانا اسمٰعیل کے استاد رحیم بیگ صاحب نے غالب کی اس کتاب پر تنقید لکھنی شروع کی تو اپنے شاگرد کو اس کام میں شریک رکھا۔ مولانا اسمٰعیل اپنے استاد کی مدد کرنے کے لئے لغت کی مختلف کتابوں سے الفاظ کے معنیٰ اور مفہوم تلاش کر کے انہیں دیتے اور کتاب کا مسودہ صاف کرنے میں ان کا ہاتھ بٹاتے۔ اس طرح مولانا کو شروع ہی سے علمی کاموں میں دلچسپی پیدا ہوئی۔
جس روز میرٹھ میں جنگِ آزادی شروع ہوئی، مولانا اپنے ایک پڑوسی کے گھر افطار کی دعوت میں شریک تھے   کہ اچانک شور سنائی دیا۔ معلوم کیا تو پتہ چلا کہ فوج کے ہندوستانی سپاہیوں نے انگریزی حکومت کے خلاف بغاوت کر دی ہے۔ فوج کا اسلحہ خانہ لوٹ لیا اور جیل کے دروازے کھول دئیے ہیں۔ یہ جنگِ آزادی کی ابتدا تھی۔ یہ واقعہ ۱۰؍ مئی ۱۸۵۷ ء   کا  تھا۔ اور اس روز رمضان (۱۲۷۴ھ) کی ۱۴؍ تاریخ تھی۔
جنگِ آزادی کے ہمارے یہ بزرگ ہمارے شکرئیے کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ان حالات میں بھی جو کچھ کرنے کا ارادہ کیا اور جو کچھ کر دیا اس کا نتیجہ ہے کہ ہم آج ایک آزاد اسلامی ملک کے باوقار شہری ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس دور کے بزرگوں کی ان کوششوں  کو ہم تحریکِ پاکستان کا نقطۂ آغاز قرار دیتے ہیں۔

مولانا سمٰعیل میرٹھی بھی  ہمارے محسنوں کی اس جماعت میں شامل ہیں۔ انہوں نے دینی علوم کی تکمیل کے بعد جدید علوم سیکھنے پر توجہ کی، انگریزی زبان میں مہارت حاصل کی، انجنیرنگ کا کورس پاس کیا۔ مگر ان علوم سے فراغت کے بعد  اعلیٰ ملازمت حاصل کرنےکے بجائے  تدریس کا معزز پیشہ اختیار کیا تاکہ اس راہ سے  قوم کو اپنے کھوئے مقام تک واپس لے جانے کی کوشش کریں اور اپنے شاگردوں اور ساری قوم کے نو نہالوں کی ذہنی تربیت کی خدمت انجام دیں۔
۱۸۵۷ سے پہلے اردو زبان کے شاعروں  نے خیالی میدانوں میں گھوڑے دوڑانے کے سوا  کوئی مفید خدمت کم ہی انجام دی تھی۔ اپنے دوسرے ہم عصروں مثلاً حالی، اور شبلی کی طرح مولانا  میرٹھی نے اپنی شاعری کو بڑوں اور بچوں کے لئے تعلیم و تربیت کا ذریعہ بنایا۔ انہوں نے خاص کر نو نہالوں کی ذہنی تربیت کے لئے درسی کتابیں مرتّب کیں۔ ان کتابوں کے نثری مضامین اور اُنکی نظموں نے یہ کام بڑی خوبی سے انجام دیا۔ مولانا اسمٰعیل میرٹھی نے سادہ زبان میں اردو سکھانے کے ساتھ ساتھ ان کتابوں میں اخلاقی مضامین کو اس خوبی سے سمویا ہے کہ پڑھنے والے تعلیم کے ساتھ تربیت کے زیور سے بھی آراستہ ہوتے جاتے ہیں۔
 دہلی کے ایک مشہور ادیب منشی ذکا اللہ نے بھی سرکاری اسکولوں کے لئے اردو ریڈروں کا ایک سلسلہ مرتب کیا تھا۔ اُن کی کتابوں میں مولوی اسمٰعیل میرٹھی کی نظمیں بھی شامل تھیں۔
مولانا کے ایک صاحبزادہ نے اُن کی زندگی کے حالات اور اُنکی شاعری کا ایک مجموعہ ’حیات و کلّیاتِ اسمٰعیل‘ کے نام سے مرتب کیا ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے لکھا ہے کہ مولانا  غالب کو شاعری میں اپنا  اُستاد بتاتے تھے۔
 میرٹھ شہر میں لڑکیوں کی تعلیم کا کوئی انتظام نہ تھا۔ مولانا نے ’مدرسۃ البنات‘ کے نام سے ۱۹۰۹ میں لڑکیوں کا ایک اسکول قائم کیا۔ یہ درسگاہ آج تک قائم ہے اور اسکا نام  اسماعیلیہ ڈگری  گرلز کالج ہے۔ ان تمام تعلیمی اور علمی مصروفیات کے ساتھ مولانا نے مسلمانوں کی سیاسی تربیت کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔ اِن سیاسی خدمات کے پیشِ نظر انہیں ۱۹۱۱ء میں میرٹھ شہر کی مسلم لیگ کا نائب صدر منتخب کیا گیا تھا۔ اس طرح وہ انجمن ترقی اردو کی مجلس شوریٰ کے رکن بھی رہے۔
مسلمانوں کے اس خدمت گذار مُصلِح نے ۷۳ سال کی عمر میں یکم نومبر ۱۹۱۷ء کو وفات پائی۔  

مکمل تحریر >>

نظم - ایک جُگنو اور بچّہ - مولوی اسمٰعیل میرٹھی

  ایک جُگنو اور بچّہ

سناؤں تمہیں بات اک رات کی                   
کہ وہ رات اندھیری تھی برسات کی
چمکنے سے جگنو کے تھا ایک سماں
                    ہوا پر اُڑیں جیسے چنگاریاں
پڑی ایک بچے کی ان پر نظر                        
پکڑ ہی لیا  ایک کو دوڑ کر
چمک دار کیڑا جو بھایا اسے                           
تو ٹوپی میں جھٹ پٹ چھپا یا  اُسے
وہ جھم جھم چمکتا ادھر سے اُدھر
                    پِھرا کوئی رستہ نہ پایا مگر
تو غمگین قیدی نے کی التجا
                کہ چھوٹے شکاری!  مجھے کر رِہا
جُگنو
خدا کے لئے چھوڑ دے چھوڑ دے!                        
مِری قید کے جال کو توڑ دے
بچّہ
کروں گا نہ آزاد اُس وقت تک
کہ میں دیکھ لوں دِن میں تیری چمک
جُگنو
چمک میری دن میں نہ دیکھو گے تُم               
اُجالے میں ہو جائیگی وہ تو گُم
بچّہ
ارے چھوٹے کیڑے نہ دے دم مجھے
             کہ ہے واقفیت ابھی کم مجھے
اُجالے میں دن کے کُھلے گا یہ حال
          کہ اتنے سے کیڑے میں ہے کیا کمال  


جگنو
یہ قدرت کی کاریگری ہے جناب              
کہ ذرّ ے کو چمکائے جوں آفتاب
مجھے دی ہے اس واسطے یہ چمک                   
کہ تم دیکھ کر مجھ کو جاؤ ٹھٹَک
نہ الڑھ پنے سے کرو پائمال
سنبھل کر چلو آدمی کی سی چال
مکمل تحریر >>

نظم - رب کا شکر ادا کر بھائی - اسماعیل میرٹھی

رب کا شکر ادا کر بھائی

جس نے ہماری گائے بنائی

اُس مالک کو کیوں نہ پکاریں
جِس نے پلائیں دودھ کی دھاریں

خاک کو اُس نے سبزہ بنایا
سبزے کو پھر گائے نے کھایا

کل جو گھاس چری تھی بَن میں
دودھ بنی اب گائے کے تھن میں

سُبحان اللہ دودھ ہے کیسا
تازہ، گرم سفید اور میٹھا

گائے کو دی کیا اچھی صورت
خُوبی کی ہے گویا مورت

دانہ دُنکا، بھوسی، چوکر
کھا لیتی ہے سب خوش ہوکر
کیا ہی ٍغریب اور کیسی پیاری
  کو سدھاری صبح ہوئی جنگل

سبزے سے میدان ہرا ہے
جھیل میں پانی صاف بھرا ہے

پانی پی کر چارہ چر کر
شام کو آئی اپنے گھر پر

 
دوری میں جو دِن ہے کاٹا
بچے کو کِس پیار سے چاٹا

بچھڑے اُس کے بیل بنائے
جو کھیتی کے کام میں آئے

رَب کی حمد و ثنا کر بھائی
جِس نے ایسی گائے بنائی
مکمل تحریر >>

نظم- ایک پودا اور گھاس- اسماعیل میرٹھی


  اتفاقاً ایک پودا اور گھاس
باغ میں دونوں کھڑے ہیں پاس پاس

گھاس کہتی ہے اسے ، میرے رفیق!
کیا انوکھا ہے اس جہاں کا طریق

ہے ہماری اور تمہاری ایک ذات
ایک قدرت سے ہے دونوں کی حیات

مٹی اور پانی ، ہوا اور روشنی
واسطے دونوں کے یکساں ہے بنی

تجھ پہ لیکن ہے عنایت کی نظر
پھینک دیتے ہیں مجھے جڑ کھود کر

سر اُٹھانے کی مجھے فرصت نہیں
اور ہوا کھانے کی بھی رخصت نہیں

کون دیتا ہے مجھے یاں پھیلنے
کھا لیا گھوڑے گدھے یا بیل نے

تجھ پہ منہ ڈالے جو کوئی جانور
اُس کی لی جاتی ہے ڈنڈے سے خبر

اولے پالے سے بچاتے ہیں تجھے
کیا عزت سے بڑھاتے ہیں تجھے

چاہتے ہیں تجھ کو ، سب کرتے ہیں پیار
کچھ پتا اس کا بتا اے دوست دار

اُس سے پودے نے کہا یوں سر ہلا
گھاس! سب بے جا ہے یہ تیرا گِلہ

مجھ میں اور تجھ میں نہیں کچھ بھی تمیز
صرف سایہ اور میوہ ہے عزیز

فائدہ ایک روز مجھ سے پائیں گے
سایہ میں بیٹھیں گے اور پھل کھائیں گے

ہے یہاں عزت کا سہرا اُس کے سر
جس سے پہنچے نفع سب کو بیشتر



مکمل تحریر >>

اک نظرِ کرم اِدھر بھی مہربان !