Pages

تمہید

بدھ، 8 جولائی، 2015

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

ڈرے کیوں میرا قاتل ؟ کیا رہے گا اُس کی گر د ن پر
وہ خوں، جو چشم تر سے عمر بھر یوں دم بہ دم نکلے ؟

نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن
بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے

مگر لکھوائے کوئی اس کو خط تو ہم سے لکھوائے
ہوئی صبح اور گھر سے کان پر رکھ کر قلم نکلے

خدا کے واسطے پردہ نہ کعبہ سے اٹھا ظالم
کہیں ایسا نہ ہو یاں بھی وہی کافر صنم نکلے

کہاں میخانے کا دروازہ غالبؔ! اور کہاں واعظ
پر اِتنا جانتے ہیں، کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے
 

مکمل تحریر >>

پیر، 6 جولائی، 2015

زاھدہ حنا اور جون ایلیاء

زاھدہ حنا جون ایلیاء کی دو دھائیوں تک رفیقِ حیات رھیں۔ وقت کا سِتم کہ پھر اُن میں علیحدگی ھو گئی۔ جون پر اِس سانحے کا جو اثر ھُوا سو ھُوا وہ ھم ان کی شاعری میں محسوس کر سکتے ھیں۔
لیکن زاھدہ حنا کی یہ غزل اُن کے دُکھ کو بھی کُھل کے بیاں کرتی نظر آتی ھے۔ جو شاید آپ دوستوں کے لیے نئی ھو۔ آپ کی بصارتوں کی نذر.
تصویر میں دونوں اپنی اولاد کے ساتھ خوش و خرم بیٹھے ھیں۔

جانتی ھوں کہ وہ خفا بھی نہیں
دل کسی طور مانتا بھی نہیں


کیا وفا و جفا کی بات کریں
درمیان اب تو کچھ رھا بھی نہیں


درد وہ بھی سہا ھے تیرے لیے
میری قسمت میں جو لکھا بھی نہیں


ھر تمنا سراب بنتی رھی
ان سرابوں کی انتہا بھی نہیں


ھاں چراغاں کی کیفیت تھی کبھی
اب تو پلکوں پہ اک دیا بھی نہیں


دل کو اب تک یقین آ نہ سکا
یوں نہیں ھے ، کہ وہ ملا بھی نہیں


وقت اتنا گزر چکا ھے حنؔا
جانے والے سے اب گلہ بھی نہیں


”زاھدہ حنا“

مکمل تحریر >>

اک نظرِ کرم اِدھر بھی مہربان !