وہ دیکھو اٹھی کالی کالی گھٹا
ہے چاروں طرف چھانے والی گھٹا
گھٹا کے جو آنے کی آہٹ ہوئی
ہوا میں بھی اک سنسناہٹ ہوئی
گھٹا آن کر مینہ جو برسا گئی
تو بے جان مٹی میں جان آگئی
زمیں سبزے سے لہلانے لگی
کسانوں کی محنت ٹھکانے لگی
جڑی بوٹیاں، پیڑ آۓ نکل
عجب بیل بوٹے، عجب پھول پھل
ہر اک پیڑ کا اک نیا ڈھنگ ہے
ہر اک پھول کا اک نیا رنگ ہے
یہ دو دن میں کیا ماجرا ہو گیا
کہ جنگل کے جنگل ہرا ہو گیا
0 تبصرے:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔