Pages

تمہید

جمعہ، 2 اکتوبر، 2015

برسات

وہ دیکھو اٹھی کالی کالی گھٹا  
ہے چاروں طرف چھانے والی گھٹا 
گھٹا کے جو آنے کی آہٹ ہوئی  
ہوا میں بھی اک سنسناہٹ ہوئی 
گھٹا آن کر مینہ جو برسا گئی  
تو بے جان مٹی میں جان آگئی 
زمیں سبزے سے لہلانے لگی  
کسانوں کی محنت ٹھکانے لگی 
جڑی بوٹیاں، پیڑ آۓ نکل  
عجب بیل بوٹے، عجب پھول پھل 
ہر اک پیڑ کا اک نیا ڈھنگ ہے  
ہر اک پھول کا اک نیا رنگ ہے 
یہ دو دن میں کیا ماجرا ہو گیا  
کہ جنگل کے جنگل ہرا ہو گیا 

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


اک نظرِ کرم اِدھر بھی مہربان !