Pages

تمہید

جمعہ، 3 جون، 2016

میں کیا حقیقتِ رعنائیِ خیال کہوں

غزل
شکستِ رنگِ تمنّا کو، عرضِ حال کہوں
سُکوتِ لب کو تقاضائے صد، سوال کہوں

ہزار رُخ ترے ملنے کے ہیں، نہ ملنے میں
کسے فراق کہوں اور کسے، وصال کہوں

مجھے یقیں ہے کہ کچھ بھی چھپا نہیں، اُن سے
انہیں یہ ضد ہے  کہ  دلِ  مبتلا،  کا  حال  کہوں 


تو بے مثال سہی پھر بھی دل کو ہے اصرار
ادا   ادا   کو   تیری   عالمِ    مثال    کہوں

مزاج  محفلِ  گیتی  اگر  نہ  برہم  ہو
تو رنگِ عیش کو کردِ رُخِ ملال کہوں

ہوا کے دوش پہ ہے ایک شعلہء لرزاں
کہوں تو کیا تری تہذیب  کا  مآل  کہوں

وہ ایک خواب جو تعمیر آپ ہے اپنی
میں کیا حقیقتِ رعنائیِ  خیال  کہوں

غزل کی بات رہے گی وہیں  اگر سوبار
جواب  شوخی  و  رعنائی  غزال  کہوں

روش یہ سادگی، عشق کا تقاضا ہے
کمال ہوش کو اخلاص کا زوال کہوں

روش صدیقی

  • 1911-1971

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


اک نظرِ کرم اِدھر بھی مہربان !