Pages

تمہید

جمعہ، 12 ستمبر، 2014

وہ عِشق جو ہم سے رُوٹھ گیا

وہ عِشق جو ہم سے رُوٹھ گیا، اب اس کا حال بتائیں کیا

کوئی مہر نہیں کوئی قہر نہیں پھر سچا شعر سنائیں کیا

اِک ہِجر جو ہم کو لاحق ہے تا دیر اسے دہرائیں کیا
وہ زہر جو دِل میں اتار لیا پھر اس کے ناز اُٹھائیں کیا

پھر آنکھیں لہو سے خالی ہیں یہ شمعیں بجھنے والی ہیں
ہم خُود بھی کسی کے سوالی ہیں اس بات پہ ہم شرمائیں کیا

اِک آگ غمِ تنہائی کی جو سارے بدن میں پھیل گئی
جب جسم ہی سارا جلتا ہو پھر دامنِ دل کو بچائیں کیا

ہم نغمہ سرا کچھ غزلوں کے ہم صُورت گر کچھ چہروں کے
بے جذبۂ شوق سنائیں کیا کوئی خواب نہ ہو تو بتائیں کیا


شاعر اطہر نفیس
مکمل تحریر >>

بدھ، 3 ستمبر، 2014

جیتوں تو تجھے پاؤں ، ہاروں تو پیا تیری

اس شرط پہ کھیلوں گی پیا پیار کی بازی
جیتوں تو تجھے پاؤں ، ہاروں تو پیا تیری
ہر لحظہ خیال تیرا رکھوں گی صرف اتنا
بیٹھ جاؤں تو بھی تیری اٹھ جاؤں تو بھی تیری
کچھ کر لوں گی حال اپنا ایسا میں ہمسفر
آنکھ لگے تو بھی تیری آنکھ کھلے تو بھی تیری

تیری ہر آہٹ پہ پالوں گی تعبیر ایسی
ہنس جاؤں تو بھی تیری روٹھ جاؤں تو بھی تیری

میں ساتھ تیرا کچھ ایسے دوں گی جانء جہاں
زنرہ ہوں تو بھی تیری مر جاؤں تو بھی تیری

(پروین شاکر)
مکمل تحریر >>

اک نظرِ کرم اِدھر بھی مہربان !