Pages

تمہید

بدھ، 3 ستمبر، 2014

جیتوں تو تجھے پاؤں ، ہاروں تو پیا تیری

اس شرط پہ کھیلوں گی پیا پیار کی بازی
جیتوں تو تجھے پاؤں ، ہاروں تو پیا تیری
ہر لحظہ خیال تیرا رکھوں گی صرف اتنا
بیٹھ جاؤں تو بھی تیری اٹھ جاؤں تو بھی تیری
کچھ کر لوں گی حال اپنا ایسا میں ہمسفر
آنکھ لگے تو بھی تیری آنکھ کھلے تو بھی تیری

تیری ہر آہٹ پہ پالوں گی تعبیر ایسی
ہنس جاؤں تو بھی تیری روٹھ جاؤں تو بھی تیری

میں ساتھ تیرا کچھ ایسے دوں گی جانء جہاں
زنرہ ہوں تو بھی تیری مر جاؤں تو بھی تیری

(پروین شاکر)

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


اک نظرِ کرم اِدھر بھی مہربان !