دکھاؤ کچھ طبیعت کی روانی
جو دانا ہو سمجھو کیا ہے پانی
یہ مل کر دو ہواؤں سے بنا ہے
گرہ کھل جاۓ تو فورا ہوا ہے
نہیں کرتا کسی برتن سے کھٹ پٹ
ہر اک سانچے میں ڈھل جاتا ہے جھٹ پٹ
جو ہلکا ہو اسے سر پر اٹھاۓ
جو بھاری ہو اسے غوطہ دلاۓ
لگے گرمی تو اڑ جاۓ ہوا پر
پڑے سردی تو بن جاتا ہے پتھر
ہوا میں مل کے غائب ہو نظر سے
کبھی اوپر سے بادل بن کے برسے
اسی کے دم سے دنیا میں تری ہے
اسی کی چاہ سے کھیتی ہری ہے
اسی کو پی کے جیتے ہیں سب انساں
اسی سے تازہ دم ہوتے ہیں حیواں
تواضع سے سدا پستی میں بہنا
جفا سہنا مگر ہموار رہنا
0 تبصرے:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔