Pages

تمہید

ہفتہ، 13 جون، 2015

گیٹو گرے

اِک تھا گیٹو گرے

اُس کے دو مور تھے
اِک کا کالا تھا سر
اِک کے پیلے تھے پر

دانہ کھاتے تھے وہ
دُم ہلاتے تھے وہ
شام کو، دِن ڈھلے
اپنے گھر سے چلے

تھے بڑی لہر میں
آگئے شہر میں
کچھ وہاں سیر کی
کچھ یہاں سیر کی

ٹرٹراتے ہوئے
گانا گاتے ہوئے
جب اندھیرا ہوا
گیٹو گھبرا گیا

دل میں کہنے لگا
یہ ہے کی ماجرا
اب تک آئے نہیں
جانے کیا وہ کہیں

راستہ کھو گئے
یا کہیں سو گئے
آپ جاتا ہوں میں
اُن کو لاتا ہوں میں

بولی گیٹو کی ماں
“تم چلے ہو کہاں
چھوڑ دو، چھوڑ دو
خود ہی آئیں گے وہ

سر کھجاتے ہوئے
دُم ہلاتے ہوئے“
بولا گیٹو گرے
“مور دونوں مِرے

سخت نادان ہیں
سخت انجان ہیں
وہ تو ڈر جائیں گے
گھٹ کے مر جائیں گے“

بولی گیٹو کی ماں
“بات سن میری جاں
تُو ہے گیٹو گرے
تُو انہیں چھوڑ دے

دیکھتے دیکھتے
مور گھر آگئے
سر کھجاتے ہوئے
دُم ہلاتے ہوئے

بولے گیٹو میاں
“بولو تم تھے کہاں؟
اتنے چالاک ہو
انتے بے باک ہو

پھر جو جاؤ گے تم
مار کھاؤ گے تم“
اُس کی اِس بات سے
مور خوش ہوگئے

پر لگے کھولنے
پھر لگے بولنے
دُم ہلانے لگے
گانا گانے لگے

از صوفی تبسّم
مکمل تحریر >>

منگل، 2 جون، 2015

The Virgin

The Virgin
BY WILLIAM WORDSWORTH
Mother! whose virgin bosom was uncrost
With the least shade of thought to sin allied.

Woman! above all women glorified,
Our tainted nature's solitary boast;

Purer than foam on central ocean tost;
Brighter than eastern skies at daybreak strewn

With fancied roses, than the unblemished moon
Before her wane begins on heaven's blue coast;

Thy image falls to earth. Yet some, I ween,
Not unforgiven the suppliant knee might bend,

As to a visible Power, in which did blend
All that was mixed and reconciled in thee

Of mother's love with maiden purity,
Of high with low, celestial with terrene!
مکمل تحریر >>

اک نظرِ کرم اِدھر بھی مہربان !