Pages

تمہید

پیر، 23 نومبر، 2015

ڈھل گئی عمر تو غزلوں پہ جوانی آئی

ٹھہری ٹھہری ہوئی طبیعت میں روانی آئی​
آج پھر یاد محبت کی کہانی آئی​
آج پھر نیند کو آنکھوں سے بچھڑتے دیکھا​
آج پھر یاد کوئی چوٹ پرانی آئی​
مدّتوں بعد چلا اُن پہ ہمارا جادو​
مدّتوں بعد ہمیں بات بنانی آئی​
مدّتوں بعد پشیماں ہوا دریا ہم سے​
مدّتوں بعد ہمیں پیاس چُھپانی آئی​
مدّتوں بعد کھُلی وسعتِ صحرا ہم پر​
مدّتوں بعد ہمیں خاک اُڑانی آئی​
مدّتوں بعد میسر ہوا ماں کا آنچل​
مدّتوں بعد ہمیں نیند سُہانی آئی​
اتنی آسانی سے ملتی نہیں فن کی دولت​
ڈھل گئی عمر تو غزلوں پہ جوانی آئی​

مکمل تحریر >>

چہرہ میرا تھا، نگاہیں اُس کی

چہرہ میرا تھا، نگاہیں اُس کی
خامشی میں بھی وہ باتیں اُس کی

میرے چہرے پہ غزل لکھتی گئیں
شعر کہتی ہوئی آنکھیں اُس کی

شوخ لمحوں کا پتہ دینے لگیں
تیز ہوئی ہُوئی سانسیں اُس کی

ایسے موسم بھی گزارے ہم نے
صبحیں جب اپنی تھیں ،شامیں اُس کی

دھیان میں اُس کے یہ عالم تھا کبھی
آنکھ مہتاب کی، یادیں اُس کی

رنگ جوئندہ وہ، آئے تو سہی!
آنکھ مہتاب کی، یادیں اُس کی

فیصلہ موجِ ہَوا نے لکھا!
آندھیاں میری، بہاریں اُس کی

خُود پہ بھی کُھلتی نہ ہو جس کی نظر
جانتا کون زبانیں اُس کی

نیند اس سوچ سے ٹوٹی اکثر
کس طرح کٹتی ہیں راتیں اُس کی

دُور رہ کر بھی سدا رہتی ہیں
مُجھ کو تھامے ہُوئے باہیں اُس کی
(پروین شاکر)
مکمل تحریر >>

اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں امکاں جاناں


اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں امکاں جاناں
یاد کیا تجھ کو دلائیں تیرا پیماں جاناں

یوں ہی موسم کی ادا دیکھ کے یاد آیا ہے
کس قدر جلد بدل جاتے ہیں انساں جاناں

زندگی تیری عطا تھی سو تیرے نام کی ہے
ہم نے جیسے بھی بسر کی تیرا احساں جاناں

دل یہ کہتا ہے کہ شاید ہو فُسردہ تو بھی
دل کی کیا بات کریں دل تو ہے ناداں جاناں

اول اول کی محبت کے نشے یاد تو کر
بے پیئے بھی تیرا چہرہ تھا گلستاں جاناں

آخر آخر تو یہ عالم ہے کہ اب ہوش نہیں
رگِ مینا سلگ اٹھی کہ رگِ جاں جاناں

مدتوں سے یہی عالم نہ توقع نہ امید
دل پکارے ہی چلا جاتا ہے جانا! جاناں !

اب کے کچھ ایسی سجی محفل یاراں جانا
سر بہ زانوں ہے کوئی سر بہ گریباں جاناں

ہر کوئی اپنی ہی آواز سے کانپ اٹھتا ہے
ہر کوئی اپنے ہی سایے سے ہراساں جاناں

جس کو دیکھو وہ ہی زنجیز بپا لگتا ہے
شہر کا شہر ہوا داخل ہوا زِنداں جاناں

ہم بھی کیا سادہ تھےہم نےبھی سمجھ رکھاتھا
غمِ دوراں سے جدا ہے غمِ جاناں جاناں

ہم، کہ روٹھی ہوی رُت کو بھی منالیتےتھے
ہم نے دیکھا ہی نہ تھا موسم ہجراں جاناں

ہوش آیا تو سب ہی خاک تھے ریزہ ریزہ
جیسے اُڑتے ہوئے اُوراقِ پریشاں جاناں

۔۔۔ احمد فراز
 
مکمل تحریر >>

تم کو کچھ بھی نہ پتا ہو جیسے


یوں نہ مل مجھ سے خفا ہو جیسے
ساتھ چل موجِ صبا ہو جیسے 

لوگ یوں دیکھ کر ہنس دیتے ہیں
تو مجھے بھول گیا ہو جیسے 

موت بھی آئی تو اس ناز کے ساتھ
مجھ پہ احسان کیا ہو جیسے 

ایسے انجان بنے بیٹھے ہو
تم کو کچھ بھی نہ پتا ہو جیسے 

ہچکیاں رات کو آتی ہی رہیں
تو نے پھر یاد کیا ہو جیسے 

زندگی بیت رہی ہے دانش
اک بے جرم سزا ہو جیسے
مکمل تحریر >>

یاروں کی خامشی کا بھرم کھولنا پڑا


یاروں کی خامشی کا بھرم کھولنا پڑا
اتنا سکوت تھا کہ مجھے بولنا پڑا

صِرف ایک تلخ بات سُنانے سے پیشتر
کانوں میں پُھول پُھول کا رس گھولنا پڑا

اپنے خطوں کے لفظ، جلانے پڑے مجھے
شفاف موتیوں کو کہاں رولنا پڑا

خوشبو کی سرد لہر سے جلنے لگے جو زخم
پُھولوں کو اپنا بندِ قبا کھولنا پڑا

کتنی عزیز تھی تری آنکھوں کی آبرو
محفل میں بے پیے بھی ہمیں ڈولنا پڑا

سُنتے تھے اُ س کی بزمِ سُخن نا شناس ہے
محسنؔ ہمیں وہاں بھی سُخن تولنا پڑا
محسن نقوی
مکمل تحریر >>

پیر، 9 نومبر، 2015

سنا ہے کل رات مر گیا وہ

⁠⁠⁠⁠⁠گئے دنوں کا سراغ لیکر کدھر سے آیا کدھر گیا وہ
عجیب مانوس اجنبی تھا مجھے تو حیران کر گیا وہ

بس اگ ہلکی سی جھلک دکھا کر بس ایک میٹھی سی دھن سنا کر
ستارہ شب بن کے آیا برنگ خواب سحر گیا وہ

نہ اب وہ یادوں کا چڑھتا دریا نہ فرستوں کی اداس برکھا
یونھی ذرا سی کسک ہے دل میں زخم جو گہرا تھا بھر گیا وہ

شکستہ پا راہ میں کھڑا ہوں گئے دنوں کو بلا رہا ہوں
جو قافلہ میرا ہمسفر تھا مثال گرد سفر گیا وہ

ہوس کی بنیاد پر نہ ٹھہرا کسی بھی امید کا گھروندا
چلی ذرا سی ہوا مخالف غبار بن کے بکھر گیا وہ

وہ ہجر کی رات کا ستارہ وہ ہم نفس ہم سخن ہمارا
سدا رہے اس کا نام پیارا سنا ہے کل رات مر گیا وہ

میرا تو خون ہو گیا ہے پانی ستمگروں کی پلک نہ بھیگی
جو نالہ اٹھا تھا رات دل سے نہ جانے کیوں بے اثر گیا وہ

وہ جس کے شانے پرہاتھ رکھ کرسفر کیا تو نے منزلوں کا
تیری گلی سے نہ جانے کیوں آج سر جھکائےنکل گیا وہ

وہ رات کا بے نوا مسافر وہ تیرا شاعر وہ تیرا ناصر
تیری گلی تک تو ہم نے دیکھا پھر نہ جانے کدھر گیا وہ



مکمل تحریر >>

اک نظرِ کرم اِدھر بھی مہربان !