Pages

تمہید

پیر، 25 مئی، 2015

مدد چاہتی ہے یہ حوّا کی بیٹی


مدد چاہتی ہے یہ حوّا کی بیٹی
یشودھا کی ہم جنس رادھا کی بیٹی
پیمبر کی امت، زلیخا کی بیٹی
ثنا خوانِ تقدیس مشرق کہاں ہیں؟

یہ کوچے یہ نیلام گھر دلکشی کے
یہ لٹتے ہوئے کارواں زندگی کے
کہاں ہیں کہاں ہیں محافظ خودی کے
ثنا خوانِ تقدیسِ مشرق کہاں ہیں؟
یہ پر پیج گلیاں یہ بے خواب بازار
یہ گمنام راہی یہ سِکّوں کی جھنکار
یہ عصمت کے سودے یہ سودوں پہ تکرار
ثنا خوانِ تقدیس مشرق کہاں ہیں؟
تعفّن سے پر نیم روشن یہ گلیاں
یہ مسلی ہوئی ادھ کھلی زرد کلیاں
یہ بکتی ہوئی کھوکلی رنگ رلیاں
ثنا خوانِ تقدیسِ مشرق کہاں ہیں؟
وہ اجلے دریچوں میں پائل کی چھن چھن
تنفس کی الجھن پہ طبلے کی دھن دھن
یہ بے روح کمروں میں کھانسی کی ٹھن ٹھن
ثنا خوان تقدیسِ مشرق کہاں ہیں؟
یہ گونجے ہوئے قہقہے راستوں پر
یہ چاروں طرف بھیڑ سی کھڑکیوں پر
یہ آواز کھنچتے ہوئے آنچلوں پر
ثنا خوانِ تقدیس مشرق کہاں ہیں؟
یہ پھولوں کے گجرے یہ پیکوں کے چھینٹے
یہ بے باک نظریں یہ گستاخ فقرے
یہ ڈھلکے بدن اور یہ مدقوق چہرے
ثنا خوانِ تقدیس مشرق کہاں ہیں؟
یہ بھوکی نگاہیں حسینوں کی جانب
یہ بڑھتے ہوئے ہاتھ سینوں کی جانب
لپکتے ہوئے پاؤں زینوں کی جانب
ثنا خوان تقدیس مشرق کہاں ہیں؟
یہاں پیر بھی آچکے ہیں جواں بھی
تنو مند بیٹے بھی، ابا میاں بھی
یہ بیوی بھی ہے اور بہن بھی ہے ماں بھی
ثنا خوان تقدیسِ مشرق کہاں ہیں؟
بلاؤ خدایانِ دین کو بلاؤ
یہ کوچے، یہ گلیاں، یہ منظر دکھاؤ
ثنا خوانِ تقدیس مشرق کو لاؤ
ثنا خوانِ تقدیس مشرق کہاں ہیں؟


ساحر لدھیانوی 
مکمل تحریر >>

اتوار، 24 مئی، 2015

تیرا دل تو ہے صنم آشنا ،تجھے کیا ملےگا نماز میں

کبھی اے حقیقتِ منتظر نظر آ لباسِ مجاز میں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں میری جبینِ نیاز میں

طرب آشنائے خروش ہو،تو نوائے محرم گوش ہو
وہ سرود کیا کہ چھپا ہوا ہو سکوت پردہء ساز میں

تو بچا بچا کہ نہ رکھ اسے، تیرا آئینہ ہے وہ آئینہ
جو شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہِ آئینہ ساز میں

دم طوف کرمک شمع نےیہ کہا کہ وہ اثر کہن
نہ تری حکایت سوز میں،نہ مری حدیث گداز میں

نہ کہیں جہاں میں اماں ملی جو اماں ملی تو کہاں ملی
مرے جرمِ خانہ خراب کو ترے عفوِ بندہ نواز میں

نہ وہ عشق میں رہیں گرمیاں ،نہ وہ حسن میں رہیں شوخیاں
نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی،نہ وہ خم ہے زلفِ ایاز میں

جو میں سر بسجدہ ہوا کبھی، تو زمیں سے آنے لگی صدا
تیرا دل تو ہے صنم آشنا ،تجھے کیا ملےگا نماز میں
 
مکمل تحریر >>

بدھ، 20 مئی، 2015

یہ ہے میکدہ یہاں رِند ہيں یہاں سب کا سَاقی اَمام ہے


یہ ہے میکدہ یہاں رِند ہيں، یہاں سب کا ساقی امام ہے
یہ حرم نہیں ہے اے شيخ جی ، یہاں پارسائی حرام ہے

جو ذرا سی پی کے بہک گیا، اسے میکدے سے نکال دو
یہاں تنگ نظر کا گزر نہیں، یہاں اہلِ ظرف کا کام ہے

کوئی مست ہے کوئی تشنہ لب، تو کسی کے ہاتھ میں جام ہے
مگر اس پہ کوئی کرے بھی کیا، یہ تو میکدے کا نظام ہے

یہ جناب شیخ کا فلسفہ ہے، عجیب سارے جہاں سے
جو وہاں پیو تو حلال ہے، جو یہاں پیو تو حرام ہے

اس کائنات میں اے جگر، کوئی انقلاب اٹھے گا پھر
کہ بلند ہو کے آدمی، ابھی خواہشوں کا غلام ہے 



مکمل تحریر >>

اک نظرِ کرم اِدھر بھی مہربان !