Pages

تمہید

بدھ، 20 مئی، 2015

یہ ہے میکدہ یہاں رِند ہيں یہاں سب کا سَاقی اَمام ہے


یہ ہے میکدہ یہاں رِند ہيں، یہاں سب کا ساقی امام ہے
یہ حرم نہیں ہے اے شيخ جی ، یہاں پارسائی حرام ہے

جو ذرا سی پی کے بہک گیا، اسے میکدے سے نکال دو
یہاں تنگ نظر کا گزر نہیں، یہاں اہلِ ظرف کا کام ہے

کوئی مست ہے کوئی تشنہ لب، تو کسی کے ہاتھ میں جام ہے
مگر اس پہ کوئی کرے بھی کیا، یہ تو میکدے کا نظام ہے

یہ جناب شیخ کا فلسفہ ہے، عجیب سارے جہاں سے
جو وہاں پیو تو حلال ہے، جو یہاں پیو تو حرام ہے

اس کائنات میں اے جگر، کوئی انقلاب اٹھے گا پھر
کہ بلند ہو کے آدمی، ابھی خواہشوں کا غلام ہے 



0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


اک نظرِ کرم اِدھر بھی مہربان !