این خرقہ کہ من دارم در رہن شراب اولی - وین دفتر بیمعنی غرق می ناب اولی
چون عمر تبہ کردم چندان کہ نگہ کردم - در کنج خراباتی افتاده خراب اولی
چون مصلحت اندیشی دور است ز درویشی - ہم سینہ پر از آتش ہم دیده پرآب اولی
من حالت زاہد را با خلق نخواہم گفت - این قصہ اگر گویم با چنگ و رباب اولی
تا بی سر و پا باشد اوضاع فلک زین دست - در سر ہوس ساقی در دست شراب اولی
از ہمچو تو دلداری دل برنکنم آری - چون تاب کشم باری زان زلف بہ تاب اولی

0 تبصرے:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔