Pages

تمہید

بدھ، 8 اپریل، 2015

چیست دین برخاستن از روی خاک

لرد مغرب آن سراپا مکر و فن
اہل دین را داد تعلیم وطن
او بفکر مرکز و تو در نفاق
بگذر از شام و فلسطین و عراق
تو اگر داری تمیز خوب و زشت
دل نبندی با کلوخ و سنگ و خشت
چیست دین برخاستن از روی خاک
تا ز خود آگاہ گردد جان پاک
می نگنجد آنکہ گفت اﷲ ہو
در حدود این نظام چار سو
پر کہ از خاک و برخیزد ز خاک
حیف اگر در خاک میرد جان پاک
گرچہ آدم بردمید از آب و گل
رنگ و نم چون گل کشید از آب و گل
حیف اگر در آب و گل غلطد مدام
حیف اگر برتر نپرد زین مقام
گفت تن در شو بخاک رھگذر
گفت جان پہنای عالم را نگر
جان نگنجد در جہات ای ہوشمند
مرد حر بیگانہ از ہر قید و بند
حر ز خاک تیرہ آید در خروش
زانکہ از بازان نیاید کار موش
آن کف خاکی کہ نامیدی وطن
اینکہ گوئے مصر و ایران و یمن
با وطن اہل وطن را نسبتی است
زانکہ از خاکش طلوع ملتی است
اندرین نسبت اگر داری نظر
نکتہ ئی بینی ز مو باریک تر
گرچہ از مشرق برآید آفتاب
با تجلی ہای شوخ و بی حجاب
در تب و تاب است از سوز درون
تا ز قید شرق و غرب آید برون
بر دمد از مشرق خود جلوہ مست
تا ہمہ آفاق را آرد بدست
فطرتش از مشرق و مغرب بری است
گرچہ او از روی نسبت خاوری است

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


اک نظرِ کرم اِدھر بھی مہربان !