این گل و لالہ تو گوئی کہ مقیم اند ہمہ
راہ پیما صفت موج نسیم اند ہمہ
معنی تازہ کہ جوئیم و نیابیم کجاست
مسجد و مکتب و میخانہ عقیم اند ہمہ
حرفی از خویشتن آموز و در آن حرف بسوز
کہ درین خانقہ بی سوز کلیم اند ہمہ
از صفا کوشی این تکیہ نشینان کم گوی
موی ژولیدہ و ناشستہ گلیم اند ہمہ
چہ حرمہا کہ درون حرمی ساختہ اند
اہل توحید یک اندیش و دو نیم اند ہمہ
مشکل این نیست کہ بزم از سر ہنگامہ گذشت
مشکل این است کہ بی نقل و ندیم اند ہمہ
راہ پیما صفت موج نسیم اند ہمہ
معنی تازہ کہ جوئیم و نیابیم کجاست
مسجد و مکتب و میخانہ عقیم اند ہمہ
حرفی از خویشتن آموز و در آن حرف بسوز
کہ درین خانقہ بی سوز کلیم اند ہمہ
از صفا کوشی این تکیہ نشینان کم گوی
موی ژولیدہ و ناشستہ گلیم اند ہمہ
چہ حرمہا کہ درون حرمی ساختہ اند
اہل توحید یک اندیش و دو نیم اند ہمہ
مشکل این نیست کہ بزم از سر ہنگامہ گذشت
مشکل این است کہ بی نقل و ندیم اند ہمہ
0 تبصرے:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔