Pages

تمہید

بدھ، 8 اپریل، 2015

دین ہزیمت خوردہ از ملک و نسب

آدم این نیلی تتق را بر درید
آنسوی گردون خدائی را ندید
در دل آدم بجز افکار چیست
ہمچو موج این سر کشید و آن رمید
جانش از محسوس می گیرد قرار
بو کہ عھد رفتہ باز آید پدید
زندہ باد افرنگی مشرق شناس
آنکہ ما را از لحد بیرون کشید
ای خدایان کہن وقت است وقت
در نگر آن حلقہ
ٔ وحدت شکست
آل ابراہیم بی ذوق الست
صحبتش پاشیدہ جامش ریز ریز
آنکہ بود از بادہ
ٔ جبریل مست
مرد حر افتاد در بند جہات
با وطن پیوست و از یزدان گسست
خون او سرد از شکوہ دیریان
لاجرم پیر حرم زنار بست
ای خدایان کہن وقت است وقت
در جھان باز آمد ایام طرب
دین ہزیمت خوردہ از ملک و نسب
از چراغ مصطفی اندیشہ چیست
زانکہ او را پف زند صد بولہب
گرچہ می آید صدای لاالہ
آنچہ از دل رفت کی ماند بہ لب
اہرمن را زندہ کرد افسون غرب
روز یزدان زرد رو از بیم شب
ای خدایان کہن وقت است وقت
بند دین از گردنش باید گشود
بندہ
ٔ ما بندۂ آزاد بود
تا صلوت او را گران آید ہمی
رکعتی خواہیم و آن ھم بی سجود
جذبہ ہا از نغمہ می گردد بلند
پس چہ لذت در نماز بی سرود
از خداوندی کہ غیب او را سزد
خوشتر آن دیوی کہ آید در شہود
ای خدایان کہن وقت است وقت

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


اک نظرِ کرم اِدھر بھی مہربان !