Pages

تمہید

بدھ، 8 اپریل، 2015

برقی کہ بخود پیچد میرد بہ سحاب اندر

ترسم کہ تو میرانی زورق بہ سراب اندر
زادی بہ حجاب اندر میری بہ حجاب اندر
چون سرمہ رازی را از دیدہ فروشستم
تقدیر امم دیدم پنھان بکتاب اندر
بر کشت و خیابان پیچ بر کوہ و بیابان پیچ
برقی کہ بخود پیچد میرد بہ سحاب اندر
با مغربیان بودم پر جستم و کم دیدم
مردی کہ مقاماتش ناید بحساب اندر
بی درد جہانگیری آن قرب میسر نیست
گلشن بگریبان کش ای بو بگلاب اندر
ای زاہد ظاہر بین گیرم کہ خودی فانی است
لیکن تو نمی بینی طوفان بہ حباب اندر
این صوت دلاویزی از زخمہ
ٔ مطرب نیست
مہجور جنان حوری نالد بہ رباب اندر

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


اک نظرِ کرم اِدھر بھی مہربان !