Pages

تمہید

جمعرات، 17 دسمبر، 2015

انسان کی اولاد ہے انسان بنے گا

تو ہندو بنے گا نہ مسلمان بنے گا
انسان کی اولاد ہے انسان بنے گا
اچھا ہے ابھی تک تیرا کچھ نام نہیں ہے
تجھ کو کسی مذہب سے کو ئئ کام نہی ہے
جس علم نے انسان کو تقسیم کیا ہے
اس علم کا تجھ پر کوئئ الزام نہیں ہے
تو بدلے ہوے وقت کی پہچان بنے گا
انسان کی اولاد ہے انسان بنے گا
مالک نے ہر انسان کو انسان بنایا
ہم نے اسے ہندو یا مسلمان بنایا
قدرت نے تو بخشی تھی ہمیں ایک ہی دھرتی
ہم نے کہیں بھارت کہیں ایران بنایا
جو توڑ دے ہر بند وہ طوفان بنے گا
انسان کی اولاد ہے انسان بنے گا
نفرت جو سیکھاے وہ دھرم تیرا نہیں ہے
انساں کو جو روندے وہ قدم تیرا نہیں ہے
قراں نہ ہو جس میں وہ مندر نہیں تیرا
گیتا نہ ہو جس میں وہ حرم تیرا نہیں ہے
تو امن کا اور صلح کا ارمان بنے گا
انسان کی اولاد ہے انسان بنے گا
یہ دین کے تاجر یہ وطن بیچنے والے
انسان کی لاشوں کے کفن بیچنے والے
یہ محل میں بیٹھے ہوے قاتل یہ لٹیرے
کانٹوں کے مدھ روح چمن بیچنے والے
تو ان کے لیے موت کا اعلان بنے گا
انسان کی اولاد ہے انسان بنے گا
تو ہندو بنے گا نہ مسلمان بنے گا
انسان کی اولاد ہے انسان بنے گا
( ساحر لدھیانوی )

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


اک نظرِ کرم اِدھر بھی مہربان !