Pages

تمہید

اتوار، 13 مارچ، 2016

اداسی بال کھولے سو رہی ہے

مسلسل بے کلی دل کو رہی ہے
مگر جینے کی صورت تو رہی ہے

میں کیوں پھرتا ہوں تنہا مارا مارا
یہ بستی چین سے کیوں سور رہی ہے

چلے دل سے امیدوں کے مسافر
یہ نگری آج خالی ہو رہی ہے

نہ سمجھو تم اسے شور ِبہاراں
خزاں پتوں میں چھپ کے رو رہی ہے

ہمارے گھر کی دیواروں پر ناصر
اداسی بال کھولے سو رہی ہے

مکمل تحریر >>

وہ ہونٹ مسکرانے والے کیا ہوئے

وہ ساحلوں پہ گانے والے کیا ہوئے
وہ کشتیاں چلانے والے کیا ہوئے

وہ صبح آتے آتے رہ گئی کہاں
جو قافلے تھے آنے والے کیا ہوئے

میں اُن کی راہ دیکھتا ہوں رات بھر
وہ روشنی دکھانے والے کیا ہوئے

یہ کون لوگ ہیں مرے ادھر اُدھر
وہ دوستی نبھانے والے کیاہوئے

وہ دل میں کھبنے والی آنکھیں کیا ہوئیں
وہ ہونٹ مسکرانے والے کیا ہوئے

عمارتیں تو جل کے راکھ ہو گئیں
عمارتیں بنانے والے کیا ہوئے

اکیلے گھر سے پوچھتی ہے بے کسی
ترا دیا جلانے والے کیا ہوئے

یہ آپ ہم تو بوجھ ہیں زمین کا
زمیں کا بوجھ اٹھانے والے کیا ہوئے

دیوان ناصر کاظمی
مکمل تحریر >>

جمعہ، 11 مارچ، 2016

اب کون ؟

اب کون سے موسم سے کوئی آس لگاۓ
برسات میں بھی یاد نہ جب اس کو ہم آۓ
مٹی کی مہک سانس کی خوشبو میں اتر کر
بھیگے ہوۓ سبزے کی ترائی میں بلاۓ
دریا کی موج میں آئی ہوئی برکھا
زردائی ہوئی رت کو ہرا رنگ پلاۓ
بوندوں کی چھما چھم سے بدن کانپ رہا ہے
اور مست ہوا کا رقص کی لے تیز کئے جاۓ
شاخیں ہیں تو وہ رقص میں پتے ہیں تو رم میں
پانی کا نشہ ہے کہ درختوں کو چڑھا جاۓ
ہر لہر پاؤں سے لپٹنے لگے گھنگھرو
بارش کی ہنسی تال پہ پازیب جو چھنکاۓ
انگور کی بیلوں پہ اتر آۓ ستارے
رکتی ہوئی بارش نے بھی کیا رنگ دکھاۓ. 

پروین شاکر


مکمل تحریر >>

اک نظرِ کرم اِدھر بھی مہربان !