اب کون سے موسم سے کوئی آس لگاۓبرسات میں بھی یاد نہ جب اس کو ہم آۓ
مٹی کی مہک سانس کی خوشبو میں اتر کر
بھیگے ہوۓ سبزے کی ترائی میں بلاۓ
دریا کی موج میں آئی ہوئی برکھا
زردائی ہوئی رت کو ہرا رنگ پلاۓ
بوندوں کی چھما چھم سے بدن کانپ رہا ہے
اور مست ہوا کا رقص کی لے تیز کئے جاۓ
شاخیں ہیں تو وہ رقص میں پتے ہیں تو رم میں
پانی کا نشہ ہے کہ درختوں کو چڑھا جاۓ
ہر لہر پاؤں سے لپٹنے لگے گھنگھرو
بارش کی ہنسی تال پہ پازیب جو چھنکاۓ
انگور کی بیلوں پہ اتر آۓ ستارے
رکتی ہوئی بارش نے بھی کیا رنگ دکھاۓ.
پروین شاکر
0 تبصرے:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔