Pages

تمہید

اتوار، 14 دسمبر، 2014

اے جذبہ ءدل گر میں چاہوں


اے جذبہ ءدل گر میں چاہوں ،  ہر چیز مقابل آ جائے 
منزل کے لیے دو گام چلوں ، اور سامنے منزل آ جائے

اے دل کی خلش چل یوں ہی سہی ، چلتا تو ہوں اُن کی محفل میں 
اُس وقت مجھے چونکا دینا ،  جب رنگ پہ محفل آ جائے

آتا ہے جو طوفان آ نے دو ، کشتی کا خُدا خود حافظ ہے 
مشکل تو نہیں اِن موجوں میں،  بہتا ہوا ساحل آ جائے

اِس عشق میں جاں کو کھونا ہے ، ماتم کرنا اور رونا ہے
میں جانتا ہوں جو ہونا ہے  پر کیا کروں جب دل آجائے

اے راہبر ِکامل چلنے کو، تیار تو ہوں پر یاد رہے 
اُس وقت مجھے بھٹکا دینا ، جب سامنے منزل آ جائے

ہاں یاد مجھے تم کر لینا ،  آواز مجھے تم دے لینا 
اس راہ ِمحبت میں کوئی ، درپیش جو مشکل آ جائے

اب کیا ڈھونڈوں گا چشم ِکرم، ہونے دے ستم بالائے ستم
میں چاہوں اے جذبہء غم ، کہ مشکل پس ِمشکل آجائے
بہزاد لکھنوی - (1900-1974) 

مکمل تحریر >>

پیر، 8 دسمبر، 2014

نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں


نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں اور بال بناؤں کس کے لیے
وہ شخص تو شہر ہی چھوڑ گیا میں باہر جاؤں کس کے لیے

جس دھوپ کی دل میں ٹھنڈک تھی وہ دھوپ اسی کے ساتھ گئی 
ان جلتی بلتی گلیوں میں اب خاک اڑاؤں کس کے لیے

وہ شہر میں تھا تو اس کے لیے اوروں سے بھی ملنا پڑتا تھا 
اب ایسے ویسے لوگوں کے میں ناز اٹھاؤں کس کے لیے

اب شہر میں اُس کا بدل ہی نہیں کوئی ویسا جانِ غزل ہی نہیں 
ایوانِ غزل میں لفظوں کے گلدان سجاؤں کس کے لیے

مدت سے کوئی آیا نہ گیا سنسان پڑی ہے گھر کی فضا 
ان خالی کمروں میں ناصر اب شمع جلاؤں کس کے لیے
مکمل تحریر >>

اتوار، 7 دسمبر، 2014

لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

 ہم دیکھیں گے، لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے، جو لوحِ ازل پہ لکھا ہے
جب ظلم و ستم کے کوہِ گراں، روئی کی طرح اڑ جائیں گے
ہم محکوموں کے پاؤں تلے، جب دھرتی دھڑ دھڑ ڈھڑکے گی
اور اہلِ حکم کے سر اوپر ،جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی

ہم دیکھیں گے، لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
جب ارضِ خدا کے کعبے سے، سب بت اٹھوائے جائیں گے
ہم اہلِ صفا، مردودِ حرم ،مسند پہ بٹھائے جائیں گے
سب تاج اچھالے جائیں گے، سب تخت گرائے جائیں گے

ہم دیکھیں گے، لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے 

بس نام رہے گا اللہ کا
جو غائب بھی ہے حاضر بھی، جو ناظر بھی ہے منظر بھی
اٹھے گا انا الحق کا نعرہ، جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
اور راج کرے گی خلق خدا ،جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو

ہم دیکھیں گے لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

مکمل تحریر >>

اک نظرِ کرم اِدھر بھی مہربان !