Pages

تمہید

اتوار، 7 دسمبر، 2014

لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

 ہم دیکھیں گے، لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے، جو لوحِ ازل پہ لکھا ہے
جب ظلم و ستم کے کوہِ گراں، روئی کی طرح اڑ جائیں گے
ہم محکوموں کے پاؤں تلے، جب دھرتی دھڑ دھڑ ڈھڑکے گی
اور اہلِ حکم کے سر اوپر ،جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی

ہم دیکھیں گے، لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
جب ارضِ خدا کے کعبے سے، سب بت اٹھوائے جائیں گے
ہم اہلِ صفا، مردودِ حرم ،مسند پہ بٹھائے جائیں گے
سب تاج اچھالے جائیں گے، سب تخت گرائے جائیں گے

ہم دیکھیں گے، لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے 

بس نام رہے گا اللہ کا
جو غائب بھی ہے حاضر بھی، جو ناظر بھی ہے منظر بھی
اٹھے گا انا الحق کا نعرہ، جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
اور راج کرے گی خلق خدا ،جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو

ہم دیکھیں گے لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


اک نظرِ کرم اِدھر بھی مہربان !