Pages

تمہید

اتوار، 14 دسمبر، 2014

اے جذبہ ءدل گر میں چاہوں


اے جذبہ ءدل گر میں چاہوں ،  ہر چیز مقابل آ جائے 
منزل کے لیے دو گام چلوں ، اور سامنے منزل آ جائے

اے دل کی خلش چل یوں ہی سہی ، چلتا تو ہوں اُن کی محفل میں 
اُس وقت مجھے چونکا دینا ،  جب رنگ پہ محفل آ جائے

آتا ہے جو طوفان آ نے دو ، کشتی کا خُدا خود حافظ ہے 
مشکل تو نہیں اِن موجوں میں،  بہتا ہوا ساحل آ جائے

اِس عشق میں جاں کو کھونا ہے ، ماتم کرنا اور رونا ہے
میں جانتا ہوں جو ہونا ہے  پر کیا کروں جب دل آجائے

اے راہبر ِکامل چلنے کو، تیار تو ہوں پر یاد رہے 
اُس وقت مجھے بھٹکا دینا ، جب سامنے منزل آ جائے

ہاں یاد مجھے تم کر لینا ،  آواز مجھے تم دے لینا 
اس راہ ِمحبت میں کوئی ، درپیش جو مشکل آ جائے

اب کیا ڈھونڈوں گا چشم ِکرم، ہونے دے ستم بالائے ستم
میں چاہوں اے جذبہء غم ، کہ مشکل پس ِمشکل آجائے
بہزاد لکھنوی - (1900-1974) 

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


اک نظرِ کرم اِدھر بھی مہربان !