Pages

تمہید

جمعرات، 17 دسمبر، 2015

انسان کی اولاد ہے انسان بنے گا

تو ہندو بنے گا نہ مسلمان بنے گا
انسان کی اولاد ہے انسان بنے گا
اچھا ہے ابھی تک تیرا کچھ نام نہیں ہے
تجھ کو کسی مذہب سے کو ئئ کام نہی ہے
جس علم نے انسان کو تقسیم کیا ہے
اس علم کا تجھ پر کوئئ الزام نہیں ہے
تو بدلے ہوے وقت کی پہچان بنے گا
انسان کی اولاد ہے انسان بنے گا
مالک نے ہر انسان کو انسان بنایا
ہم نے اسے ہندو یا مسلمان بنایا
قدرت نے تو بخشی تھی ہمیں ایک ہی دھرتی
ہم نے کہیں بھارت کہیں ایران بنایا
جو توڑ دے ہر بند وہ طوفان بنے گا
انسان کی اولاد ہے انسان بنے گا
نفرت جو سیکھاے وہ دھرم تیرا نہیں ہے
انساں کو جو روندے وہ قدم تیرا نہیں ہے
قراں نہ ہو جس میں وہ مندر نہیں تیرا
گیتا نہ ہو جس میں وہ حرم تیرا نہیں ہے
تو امن کا اور صلح کا ارمان بنے گا
انسان کی اولاد ہے انسان بنے گا
یہ دین کے تاجر یہ وطن بیچنے والے
انسان کی لاشوں کے کفن بیچنے والے
یہ محل میں بیٹھے ہوے قاتل یہ لٹیرے
کانٹوں کے مدھ روح چمن بیچنے والے
تو ان کے لیے موت کا اعلان بنے گا
انسان کی اولاد ہے انسان بنے گا
تو ہندو بنے گا نہ مسلمان بنے گا
انسان کی اولاد ہے انسان بنے گا
( ساحر لدھیانوی )

مکمل تحریر >>

پیر، 14 دسمبر، 2015

ہم نے تو ایک بات کی اس نے تو کمال کردیا

چلنے کا حوصلہ نہیں ، رُ کنا محال کردیا
عشق کے اس سفر نے تو ، مجھ کو نڈھال کردیا
ملتے ہوئے دلوں کے بیچ اور تھا فیصلہ کوئی
اس نے مگر بچھڑتے وقت اور سوال کردیا
اے میری گل زمیں تجھے، چاہ تھی ایک کتاب کی
اہل کتاب نے مگر کیا تیرا حال کردیا
اب کے ہوا کے ساتھ ہے دامانِ یار منتظر
بانوِ شب کے ہاتھ میں رکھنا سنبھال کردیا
ممکناں فیصلوں میں ایک ہجر کا ایک فیصلہ بھی تھا
ہم نے تو ایک بات کی اس نے تو کمال کردیا
میرے لبوں پہ مُہر تھی پر میرے شیشہ رو نے تو
شہر کے شہر کو میرا واقف حال کردیا
چہرہ و نام ایک ساتھ آج نہ یاد آسکے
وقت نے کس شبیہ کو خواب و خیال کردیا
مدتوں بعد اس نے آج مجھ سے کوئی گِلا کیا
منسبِ دلبری پہ کیا مجھ کو بحال کردیا
پروین شاکر
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مکمل تحریر >>

میں ہوں بے وطن مسافر




مری داستان حسرت وہ سنا سنا کر روئے

مرے آزمانے والے مجھے آزما کے روئے

کوئی  ایسا  اہل  دل  ھو  کہ  فسانہ  محبت

میں اسے سنا کے روؤں وہ مجھے سنا کے روئے

مری  آرزو  کی  دنیا  دل  ناتواں  کی  حسرت
جسے

کھو کے شادماں تھے اسے آج پا کے روئے

تری  بے  وفائیوں  پر  تری  کج  ادائیوں  پر
کبھی سر

جھکا کے روئے کبھی منہ چھپا کے روئے

جو سنائی انجمن  میں  شب  غم کی  آپ  بیتی

کئی رو کے مسکرائے کئی مسکرا کے روئے

  میں ہوں بے وطن مسافر میرا نام بے کسی ہے

میرا کوئی نہیں جہاں میں جو گلے لگا کے روئے

 کہیں سیف راستے میں وہ ملے تو اُس سے کہنا 

میں اداس ہوں اکیلا ، میرے پاس آکے روئے



(سیف الدین سیف)
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مکمل تحریر >>

ابلیس کا فرمان اپنے سیاسی فرزندوں کے نام

ابلیس کا فرمان اپنے سیاسی فرزندوں کے نام

لا کر برہمنوں کو سیاست کے پیچ میں
زناریوں کو دیر و کہن سے نکال دو

وہ فاقہ کش کہ موت سےڈرتا نہیں ذرا
روح محمدﷺ اس کے بدن سے نکال دو

فکر عرب کو دے کے فرنگی تخیلات
اسلام کو حجاز و یمن سے نکال دو

افغانیوں کی غیرت دیں کا ہے یہ علاج
ملا کو ان کے کوہ و دمن سے نکال دو

اہل حرم سے ان کی روایات چھین لو
آہو کو مرغزار ختن سے نکال دو

اقبال کے نفس سے ہے لالے کی آگ تیز
ایسے غزل سرا کو چمن سے نکال دو

(علامہ محمد اقبال: ضرب کلیم)
مکمل تحریر >>

ابلیس کی مجلس شوریٰ


ابلیس کی مجلس شوریٰ
1936

ابلیس

یہ عناصر کا پرانا کھیل! یہ دنیائے دوں!
ساکنانِ عرش اعظم کی تمناوں کا خوں!
اس کی بربادی پہ آج آمادہ ہے وہ کارساز
جس نے اس کا نام رکھا تھا جہانِ کاف و نوں
میں دکھلایا فرنگی کو ملوکیت کا خواب
میں نے توڑا مسجد و دیر و کلیسا کا فسوں
میں ناداروں کو سکھلایا سبق تقدیر کا
میں نے منعم کو دیا سرمایہ داری کا جنوں!
کون کر سکتا ہے اس کی آتشِ سوزاں کو سرد
جس کے ہنگاموں میں ہو ابلیس کا سوزِ دروں
جس کی شاخیں ہوں ہماری آبیاری سے بلند
کون کر سکتا ہے اس نخلِ کہن کو سرنگوں

!
پہلا مشیر

اس میں کیا شک ہے کہ محکم ہے یہ ابلیسی نظام
پختہ تر اس سے ہوئے خوئے غلامی میں عوام
ہے ازل سے ان غریبوں کے مقدر میں سجود
ان کی فطرت کا تقاضا ہے نمازِ بے قیام
آرزو اول تو پیدا ہو نہیں سکتی کہیں
ہو کہیں پیدا تو مرجاتی ہے یارہتی ہے خام!
یہ ہماری سعی پیہم کی کرامت ہے کہ آج
صوفی و ملا ملوکیت کے بندے ہیں تمام!
طبع مشرق کے لیے موزوں یہی افیون تھی
ورنہ قوالی سے کچھ کمتر نہیں علمِ کلام
ہے طواف و حج کا ہنگامہ اگر باقی تو کیا
کند ہو کر رہ گئی مومن کی تیغِ بے نیام!
کس کی نومیدی پہ حجت ہے یہ فرمانِ جدید
ہے جہاد اس دور میں مردِ مسلماں پرحرام

دوسرا مشیر

خبر ہے سلطانیء جمہور کا غوغا کہ شر؟
تو جہاں کے تازہ فتنوں سے نہیں ہے باخبر!

پہلا مشیر

ہوں، مگر میری جہاں بینی بتاتی ہے مجھے
جو ملوکیت کا اک پردہ ہو کیا اس سے خطر!
ہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباس
جب ذرا آدم ہوا ہے خود شناس و خود نگر
کاروبارِ شہر یاری کی حقیقت اور ہے
یہ وجود میر و سلطاں، پر نہیں ہے منحصر
مجلسِ ملت ہو یا پرویز کا دربار ہو
ہے وہ سلطاں، غیر کی کھیتی پہ ہو جس کی نظر!
تو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام؟
چہرہ روشن ،اندروں چنگیز سے تاریک تر!

تیسرا مشیر

روح سلطانی رہے باقی تو پھر کیا اضطراب
ہے مگر کیا اس یہودی کی شرارت کا جواب؟
وہ کلیم بے تجلی ! وہ مسیح بے صلیب!
نیست پیغمبر و لیکن در بغل دارد کتاب!
کیا بتاوں کیا ہے کافر کی نگاہِ پردہ سوز
مشرق و مغرب کی قوموں کے لیے روز حساب!
اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا طبیعت کا فساد
توڑ دی بندوں نے آقاوں کے خیموں کی طناب!

چوتھا مشیر

توڑ اس کا رومتہ الکبریٰ کے ایوانوں میں دیکھ
آل سیزر کو دکھایا ہم نےپھر سیزر کا خواب
کون بحر روم کی موجوں سے ہے لپٹا ہوا
گاہ بالدچوں صنوبر، گاہ نالد چوں رباب

تیسرا مشیر

میں تو اس کی عاقبت بینی کا کچھ قائل نہیں
جس نے افرنگی سیاست کو کیا یوں بے حجاب!

پانچواں مشیر

(ابلیس کو مخاطب کرکے)

اے ترے سوزِ نفس سے کارِ عالم استوار
تو نے جب چاہا کیا ہر پردگی کو آشکار
آب و گل تیری حرارت سے جہانِ سوز و ساز
ابلہِ جنت تری تعلیم سے دانائے کار
تجھ سے بڑھ کر فطرت آدم کا وہ محرم نہیں
سادہ دل بندوں میں جو مشہور ہے پروردگار
کام تھا جن کا فقط تقدیس و تسبیح و طواف
تیری غیرت سے ابد تک سرنگوں و شرمسار
گرچہ ہیں تیرے مرید افرنگ کے ساحر تمام
اب مجھے ان کی فراست پر نہیں ہے اعتبار
وہ یہودی فتنہ گر، وہ روحِ مزدک کابروز
ہر قبا ہونے کو ہے اس کے جنوں سے تار تار
زاغ دشتی ہو رہا ہے ہمسرِ شاہیں و چرغ
کتنی سرعت سے بدلتا ہے مزاجِ روز گار
چھا گئی آشفتہ ہو کر وسعتِ افلاک پر
جس کو نادانی سے ہم سمجھے تھے اک مشتِ غبار
فتنہء فردا کی ہیبت کا یہ عالم ہے کہ آج
کانپتے ہیں کوہسار و مرغزار و جوئبار
میرے آقا! وہ جہاں زیر و زبر ہونے کو ہے
جس جہاں کا ہے فقط تیری سیادت پرمدار

ابلیس

(اپنے مشیروں سے)

ہے مرے دستِ تصرف میں جہانِ رنگ و بو
کیا زمیں، کیا مہر و مہ، کیا آسماںِ تو بتو
دیکھ لیں گے اپنی آنکھوں سے تماشا غرب و شرق
میں نے جب گرما دیا اقوام یورپ کا لہو
کیا امامانِ سیاست، کیا کلیسا کے شیوخ
سب کو دیوانہ بنا سکتی ہے میری ایک ہو!
کار گاہِ شیشہ جو ناداں سمجھتا ہے اسے
توڑ کر دیکھے تو اس تہذیب کے جام و سبو
دستِ فطرت نے کیا ہے جن گریبانوں کو چاک
مزدکی منطق کی سوزن سے نہیں ہوتے رفو
کب ڈرا سکتے ہیں مجھ کو اشتراکی کوچہ گرد
یہ پریشاں روزگار، آشفتہ مغز، آشفتہ ہو
ہے اگر مجھ کو خطر کوئی تو اس امت سے ہے
جس کی خاکستر میں ہے اب تک شرارِ آرزو
خال خال اس قوم میں اب تک نظر آتے ہیں وہ
کرتے ہیں اشکِ سحر آگاہی سے جو ظالم وضو
جانتا ہے، جس پہ روشن باطنِ ایام ہے
مزدکیت فتنہء فردا نہیں، اسلام ہے

(2)

جانتا ہوں میں یہ امت حاملِ قرآں نہیں
ہے وہی سرمایہ داری بندہء مومن کا دیں
جانتا ہوں میں کہ مشرق کی اندھیری رات میں
بے ید بیضا ہے پیرانِ حرم کی آستیں
عصر حاضر کے تقاضوں سے ہے لیکن یہ خوف
ہو نہ جائے آشکارا شرعِ پیغمبر کہیں
الحذر آئین پیغمبر سے سو بار الحذر
حافظ ناموس زن، مرد آزما، مرد آفریں
موت کا پیغام ہر نوع غلامی کے لیے
نے کوئی فغفور و خاقاں، نے فقیر رہ نشیں
کرتا ہے دولت کو ہر آلودگی سے پاک و صاف
منعموں کو مال و دولت کا بناتا ہے امیں
اس سے بڑھ کر اورکیا فکر و عمل کا انقلاب!
بادشاہوں کی نہیں اللہ کی ہے یہ زمیں
چشمِ عالم سے رہے پوشیدہ یہ آئیں تو خوب
یہ غنیمت ہے کہ خود مومن ہے محرومِ یقیں!
ہے یہی بہتر الہیات میں الجھا رہے
یہ کتاب اللہ کی تاویلات میں‌الجھا رہے

(3)

توڑ ڈالیں جس کی تکبریں طلسمِ شش جہات
ہو نہ روشن اس خدا اندیش کی تاریک رات!
ابنِ مریم مر گیا یا زندہء جاوید ہے؟
ہیں صفاتِ ذاتِ حق سے جدا یا عین ذات؟
آنے والے سے مسیح ناصری مقصود ہے
یا مجدد جس میں ہوں فرزند مریم کے صفات؟
ہیں کلام اللہ کے الفاظ حادث یا قدیم
امتِ مرحوم کی ہے کس عقیدے میں نجات؟
کیا مسلماں کے لیے کافی نہیں اس دور میں
یہ الہیات کے ترشے ہوئے لات و منات؟
تم اسے بیگانہ رکھو عالمِ کردار سے
تا بساطِ زندگی میں اس کے سب مہرے ہوں مات!
خیر اسی میں ہے قیامت تک رہے مومن غلام
چھوڑ کر اوروں کی خاطر یہ جہانِ بے ثبات
ہے وہی شعر و تصوف اس کے حق میں خوب تر
جو چھپا دے اس کی آنکھوں سے تماشائے حیات!
ہر نفس ڈرتا ہوں اس امت کی بیداری سے میں
ہے حقیقت جس کے دیں کی احتسابِ کائنات!
مست رکھو ذکر و فکرِ صبحگاہی میں اسے
پختہ تر کر دو مزاجِ خانقاہی میں اسے​

مکمل تحریر >>

پیر، 23 نومبر، 2015

ڈھل گئی عمر تو غزلوں پہ جوانی آئی

ٹھہری ٹھہری ہوئی طبیعت میں روانی آئی​
آج پھر یاد محبت کی کہانی آئی​
آج پھر نیند کو آنکھوں سے بچھڑتے دیکھا​
آج پھر یاد کوئی چوٹ پرانی آئی​
مدّتوں بعد چلا اُن پہ ہمارا جادو​
مدّتوں بعد ہمیں بات بنانی آئی​
مدّتوں بعد پشیماں ہوا دریا ہم سے​
مدّتوں بعد ہمیں پیاس چُھپانی آئی​
مدّتوں بعد کھُلی وسعتِ صحرا ہم پر​
مدّتوں بعد ہمیں خاک اُڑانی آئی​
مدّتوں بعد میسر ہوا ماں کا آنچل​
مدّتوں بعد ہمیں نیند سُہانی آئی​
اتنی آسانی سے ملتی نہیں فن کی دولت​
ڈھل گئی عمر تو غزلوں پہ جوانی آئی​

مکمل تحریر >>

چہرہ میرا تھا، نگاہیں اُس کی

چہرہ میرا تھا، نگاہیں اُس کی
خامشی میں بھی وہ باتیں اُس کی

میرے چہرے پہ غزل لکھتی گئیں
شعر کہتی ہوئی آنکھیں اُس کی

شوخ لمحوں کا پتہ دینے لگیں
تیز ہوئی ہُوئی سانسیں اُس کی

ایسے موسم بھی گزارے ہم نے
صبحیں جب اپنی تھیں ،شامیں اُس کی

دھیان میں اُس کے یہ عالم تھا کبھی
آنکھ مہتاب کی، یادیں اُس کی

رنگ جوئندہ وہ، آئے تو سہی!
آنکھ مہتاب کی، یادیں اُس کی

فیصلہ موجِ ہَوا نے لکھا!
آندھیاں میری، بہاریں اُس کی

خُود پہ بھی کُھلتی نہ ہو جس کی نظر
جانتا کون زبانیں اُس کی

نیند اس سوچ سے ٹوٹی اکثر
کس طرح کٹتی ہیں راتیں اُس کی

دُور رہ کر بھی سدا رہتی ہیں
مُجھ کو تھامے ہُوئے باہیں اُس کی
(پروین شاکر)
مکمل تحریر >>

اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں امکاں جاناں


اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں امکاں جاناں
یاد کیا تجھ کو دلائیں تیرا پیماں جاناں

یوں ہی موسم کی ادا دیکھ کے یاد آیا ہے
کس قدر جلد بدل جاتے ہیں انساں جاناں

زندگی تیری عطا تھی سو تیرے نام کی ہے
ہم نے جیسے بھی بسر کی تیرا احساں جاناں

دل یہ کہتا ہے کہ شاید ہو فُسردہ تو بھی
دل کی کیا بات کریں دل تو ہے ناداں جاناں

اول اول کی محبت کے نشے یاد تو کر
بے پیئے بھی تیرا چہرہ تھا گلستاں جاناں

آخر آخر تو یہ عالم ہے کہ اب ہوش نہیں
رگِ مینا سلگ اٹھی کہ رگِ جاں جاناں

مدتوں سے یہی عالم نہ توقع نہ امید
دل پکارے ہی چلا جاتا ہے جانا! جاناں !

اب کے کچھ ایسی سجی محفل یاراں جانا
سر بہ زانوں ہے کوئی سر بہ گریباں جاناں

ہر کوئی اپنی ہی آواز سے کانپ اٹھتا ہے
ہر کوئی اپنے ہی سایے سے ہراساں جاناں

جس کو دیکھو وہ ہی زنجیز بپا لگتا ہے
شہر کا شہر ہوا داخل ہوا زِنداں جاناں

ہم بھی کیا سادہ تھےہم نےبھی سمجھ رکھاتھا
غمِ دوراں سے جدا ہے غمِ جاناں جاناں

ہم، کہ روٹھی ہوی رُت کو بھی منالیتےتھے
ہم نے دیکھا ہی نہ تھا موسم ہجراں جاناں

ہوش آیا تو سب ہی خاک تھے ریزہ ریزہ
جیسے اُڑتے ہوئے اُوراقِ پریشاں جاناں

۔۔۔ احمد فراز
 
مکمل تحریر >>

تم کو کچھ بھی نہ پتا ہو جیسے


یوں نہ مل مجھ سے خفا ہو جیسے
ساتھ چل موجِ صبا ہو جیسے 

لوگ یوں دیکھ کر ہنس دیتے ہیں
تو مجھے بھول گیا ہو جیسے 

موت بھی آئی تو اس ناز کے ساتھ
مجھ پہ احسان کیا ہو جیسے 

ایسے انجان بنے بیٹھے ہو
تم کو کچھ بھی نہ پتا ہو جیسے 

ہچکیاں رات کو آتی ہی رہیں
تو نے پھر یاد کیا ہو جیسے 

زندگی بیت رہی ہے دانش
اک بے جرم سزا ہو جیسے
مکمل تحریر >>

یاروں کی خامشی کا بھرم کھولنا پڑا


یاروں کی خامشی کا بھرم کھولنا پڑا
اتنا سکوت تھا کہ مجھے بولنا پڑا

صِرف ایک تلخ بات سُنانے سے پیشتر
کانوں میں پُھول پُھول کا رس گھولنا پڑا

اپنے خطوں کے لفظ، جلانے پڑے مجھے
شفاف موتیوں کو کہاں رولنا پڑا

خوشبو کی سرد لہر سے جلنے لگے جو زخم
پُھولوں کو اپنا بندِ قبا کھولنا پڑا

کتنی عزیز تھی تری آنکھوں کی آبرو
محفل میں بے پیے بھی ہمیں ڈولنا پڑا

سُنتے تھے اُ س کی بزمِ سُخن نا شناس ہے
محسنؔ ہمیں وہاں بھی سُخن تولنا پڑا
محسن نقوی
مکمل تحریر >>

پیر، 9 نومبر، 2015

سنا ہے کل رات مر گیا وہ

⁠⁠⁠⁠⁠گئے دنوں کا سراغ لیکر کدھر سے آیا کدھر گیا وہ
عجیب مانوس اجنبی تھا مجھے تو حیران کر گیا وہ

بس اگ ہلکی سی جھلک دکھا کر بس ایک میٹھی سی دھن سنا کر
ستارہ شب بن کے آیا برنگ خواب سحر گیا وہ

نہ اب وہ یادوں کا چڑھتا دریا نہ فرستوں کی اداس برکھا
یونھی ذرا سی کسک ہے دل میں زخم جو گہرا تھا بھر گیا وہ

شکستہ پا راہ میں کھڑا ہوں گئے دنوں کو بلا رہا ہوں
جو قافلہ میرا ہمسفر تھا مثال گرد سفر گیا وہ

ہوس کی بنیاد پر نہ ٹھہرا کسی بھی امید کا گھروندا
چلی ذرا سی ہوا مخالف غبار بن کے بکھر گیا وہ

وہ ہجر کی رات کا ستارہ وہ ہم نفس ہم سخن ہمارا
سدا رہے اس کا نام پیارا سنا ہے کل رات مر گیا وہ

میرا تو خون ہو گیا ہے پانی ستمگروں کی پلک نہ بھیگی
جو نالہ اٹھا تھا رات دل سے نہ جانے کیوں بے اثر گیا وہ

وہ جس کے شانے پرہاتھ رکھ کرسفر کیا تو نے منزلوں کا
تیری گلی سے نہ جانے کیوں آج سر جھکائےنکل گیا وہ

وہ رات کا بے نوا مسافر وہ تیرا شاعر وہ تیرا ناصر
تیری گلی تک تو ہم نے دیکھا پھر نہ جانے کدھر گیا وہ



مکمل تحریر >>

جمعہ، 2 اکتوبر، 2015

کئے جاؤ کوشش میرے دوستو

اگر طاق میں تم نے رکھ دی کتاب        
تو کیا دو گے کل امتحاں میں جواب 
نہ پڑھنے سے بہتر ہے پڑھنا جناب  
کہ ہو جاؤ گے ایک دن کامیاب
کئے جاؤ کوشش میرے دوستو
نہ تم ہچکچاؤ، نہ ہرگز ڈرو                
جہاں تک بنے کام پورا کرو 
مشقّت اٹھاؤ، مصیبت بھرو                
طلب میں جیو، جستجو میں مرو
کئے جاؤ کوشش میرے دوستو
زیاں میں بھی ہے فائدہ کچھ نہ کچھ      
تمہیں مل رہے گا صلہ کچھ نہ کچھ 
ہر اک درد کی ہے دوا کچھ نہ کچھ      
کبھی تو لگے گا پتا کچھ نہ کچھ 
کئے جاؤ کوشش میرے دوستو
تردّد کو آنے نہ دو اپنے پاس  ہے        
بے ہودہ خوف اور بے جا ہراس 
رکھو دل کو مضبوط، قائم حواس        
کبھی کامیابی کی چھوڑو نہ آس 
کئے جاؤ کوشش میرے دوستو
مکمل تحریر >>

شفق

شفق پھولنے کی بھی دیکھو بہار          
ہوا میں کھلا ہے عجب لالہ زار 
ہوئی شام بادل بدلتے ہیں رنگ              
جنھیں دیکھ کر عقل ہوتی ہے دنگ 
نیا رنگ ہے اور نیا روپ ہے              
ہر اک روپ میں یہ وہی دھوپ ہے 
ذرا دیر میں رنگ بدلے کی                
بنفشی و نارنجی و چنپئی
یہ کیا بھید ہے! کیا کرامات ہے            
ہر اک رنگ میں اک نئی بات ہے 
یہ مغرب میں جو بادلوں کی ہے          
باڑ بنے سونے چاندی کے گویا پہاڑ 
فلک نیلگوں اس میں سرخی کی لاگ  
ہرے بن میں گویا لگادی ہے آگ 
اب آثار پیدا ہوۓ رات کے                  
کہ پردے چھٹے لال بانات کے 
مکمل تحریر >>

سچ کہو

سچ کہو سچ کہو ہمیشہ سچ              
ہے بھلے مانسو کا پیشہ سچ 
سچ کہو گے تو تم رہو گے عزیز    
سچ تو یہ ہے کہ سچ ہے اچھی چیز 
سچ کہو گے تو تم رہو گے شاد      
فکر سے پاک, رنج سے آزاد 
سچ کہو گے تو تم رہو گے دلیر      
جیسے ڈرتا نہیں دلاور شیر 
سچ سے رہتی ہے تقویت دل کو      
سہل کرتا ہے سخت مشکل کو 
سچ ہے سارے معاملوں کی جان      
سچ سے رہتا ہے دل کو اطمینان 
سچ کہو گے تو دل رہے گا صاف  
سچ کرادے گا سب قصور معاف 
وہی دانا ہے جو کہ ہے سچا  
اس میں بڈھا ہو یا کوئی بچہ 
ہے برا جھوٹ بولنے والا
آپ کرتا ہے اپنا منہ کالا 
فائدہ اس کو کچھ نہ دے گا جھوٹ  
جاۓ گا ایک روز بھانڈا پھوٹ 
جھوٹ کی بھول کر نہ ڈالو خو
جھوٹ ذلت کی بات ہے اخ تھو! 

مکمل تحریر >>

پانی ہے کیا چیز

دکھاؤ کچھ طبیعت کی روانی  
جو دانا ہو سمجھو کیا ہے پانی
یہ مل کر دو ہواؤں سے بنا ہے  
گرہ کھل جاۓ تو فورا ہوا ہے 
نہیں کرتا کسی برتن سے کھٹ پٹ  
ہر اک سانچے میں ڈھل جاتا ہے جھٹ پٹ 
جو ہلکا ہو اسے سر پر اٹھاۓ  
جو بھاری ہو اسے غوطہ دلاۓ
لگے گرمی تو اڑ جاۓ ہوا پر  
پڑے سردی تو بن جاتا ہے پتھر 
ہوا میں مل کے غائب ہو نظر سے  
کبھی اوپر سے بادل بن کے برسے 
اسی کے دم سے دنیا میں تری ہے  
اسی کی چاہ سے کھیتی ہری ہے 
اسی کو پی کے جیتے ہیں سب انساں  
اسی سے تازہ دم ہوتے ہیں حیواں 
تواضع سے سدا پستی میں بہنا  
جفا سہنا مگر ہموار رہنا
مکمل تحریر >>

برسات

وہ دیکھو اٹھی کالی کالی گھٹا  
ہے چاروں طرف چھانے والی گھٹا 
گھٹا کے جو آنے کی آہٹ ہوئی  
ہوا میں بھی اک سنسناہٹ ہوئی 
گھٹا آن کر مینہ جو برسا گئی  
تو بے جان مٹی میں جان آگئی 
زمیں سبزے سے لہلانے لگی  
کسانوں کی محنت ٹھکانے لگی 
جڑی بوٹیاں، پیڑ آۓ نکل  
عجب بیل بوٹے، عجب پھول پھل 
ہر اک پیڑ کا اک نیا ڈھنگ ہے  
ہر اک پھول کا اک نیا رنگ ہے 
یہ دو دن میں کیا ماجرا ہو گیا  
کہ جنگل کے جنگل ہرا ہو گیا 
مکمل تحریر >>

بدھ، 8 جولائی، 2015

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

ڈرے کیوں میرا قاتل ؟ کیا رہے گا اُس کی گر د ن پر
وہ خوں، جو چشم تر سے عمر بھر یوں دم بہ دم نکلے ؟

نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن
بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے

مگر لکھوائے کوئی اس کو خط تو ہم سے لکھوائے
ہوئی صبح اور گھر سے کان پر رکھ کر قلم نکلے

خدا کے واسطے پردہ نہ کعبہ سے اٹھا ظالم
کہیں ایسا نہ ہو یاں بھی وہی کافر صنم نکلے

کہاں میخانے کا دروازہ غالبؔ! اور کہاں واعظ
پر اِتنا جانتے ہیں، کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے
 

مکمل تحریر >>

پیر، 6 جولائی، 2015

زاھدہ حنا اور جون ایلیاء

زاھدہ حنا جون ایلیاء کی دو دھائیوں تک رفیقِ حیات رھیں۔ وقت کا سِتم کہ پھر اُن میں علیحدگی ھو گئی۔ جون پر اِس سانحے کا جو اثر ھُوا سو ھُوا وہ ھم ان کی شاعری میں محسوس کر سکتے ھیں۔
لیکن زاھدہ حنا کی یہ غزل اُن کے دُکھ کو بھی کُھل کے بیاں کرتی نظر آتی ھے۔ جو شاید آپ دوستوں کے لیے نئی ھو۔ آپ کی بصارتوں کی نذر.
تصویر میں دونوں اپنی اولاد کے ساتھ خوش و خرم بیٹھے ھیں۔

جانتی ھوں کہ وہ خفا بھی نہیں
دل کسی طور مانتا بھی نہیں


کیا وفا و جفا کی بات کریں
درمیان اب تو کچھ رھا بھی نہیں


درد وہ بھی سہا ھے تیرے لیے
میری قسمت میں جو لکھا بھی نہیں


ھر تمنا سراب بنتی رھی
ان سرابوں کی انتہا بھی نہیں


ھاں چراغاں کی کیفیت تھی کبھی
اب تو پلکوں پہ اک دیا بھی نہیں


دل کو اب تک یقین آ نہ سکا
یوں نہیں ھے ، کہ وہ ملا بھی نہیں


وقت اتنا گزر چکا ھے حنؔا
جانے والے سے اب گلہ بھی نہیں


”زاھدہ حنا“

مکمل تحریر >>

ہفتہ، 13 جون، 2015

گیٹو گرے

اِک تھا گیٹو گرے

اُس کے دو مور تھے
اِک کا کالا تھا سر
اِک کے پیلے تھے پر

دانہ کھاتے تھے وہ
دُم ہلاتے تھے وہ
شام کو، دِن ڈھلے
اپنے گھر سے چلے

تھے بڑی لہر میں
آگئے شہر میں
کچھ وہاں سیر کی
کچھ یہاں سیر کی

ٹرٹراتے ہوئے
گانا گاتے ہوئے
جب اندھیرا ہوا
گیٹو گھبرا گیا

دل میں کہنے لگا
یہ ہے کی ماجرا
اب تک آئے نہیں
جانے کیا وہ کہیں

راستہ کھو گئے
یا کہیں سو گئے
آپ جاتا ہوں میں
اُن کو لاتا ہوں میں

بولی گیٹو کی ماں
“تم چلے ہو کہاں
چھوڑ دو، چھوڑ دو
خود ہی آئیں گے وہ

سر کھجاتے ہوئے
دُم ہلاتے ہوئے“
بولا گیٹو گرے
“مور دونوں مِرے

سخت نادان ہیں
سخت انجان ہیں
وہ تو ڈر جائیں گے
گھٹ کے مر جائیں گے“

بولی گیٹو کی ماں
“بات سن میری جاں
تُو ہے گیٹو گرے
تُو انہیں چھوڑ دے

دیکھتے دیکھتے
مور گھر آگئے
سر کھجاتے ہوئے
دُم ہلاتے ہوئے

بولے گیٹو میاں
“بولو تم تھے کہاں؟
اتنے چالاک ہو
انتے بے باک ہو

پھر جو جاؤ گے تم
مار کھاؤ گے تم“
اُس کی اِس بات سے
مور خوش ہوگئے

پر لگے کھولنے
پھر لگے بولنے
دُم ہلانے لگے
گانا گانے لگے

از صوفی تبسّم
مکمل تحریر >>

منگل، 2 جون، 2015

The Virgin

The Virgin
BY WILLIAM WORDSWORTH
Mother! whose virgin bosom was uncrost
With the least shade of thought to sin allied.

Woman! above all women glorified,
Our tainted nature's solitary boast;

Purer than foam on central ocean tost;
Brighter than eastern skies at daybreak strewn

With fancied roses, than the unblemished moon
Before her wane begins on heaven's blue coast;

Thy image falls to earth. Yet some, I ween,
Not unforgiven the suppliant knee might bend,

As to a visible Power, in which did blend
All that was mixed and reconciled in thee

Of mother's love with maiden purity,
Of high with low, celestial with terrene!
مکمل تحریر >>

پیر، 25 مئی، 2015

مدد چاہتی ہے یہ حوّا کی بیٹی


مدد چاہتی ہے یہ حوّا کی بیٹی
یشودھا کی ہم جنس رادھا کی بیٹی
پیمبر کی امت، زلیخا کی بیٹی
ثنا خوانِ تقدیس مشرق کہاں ہیں؟

یہ کوچے یہ نیلام گھر دلکشی کے
یہ لٹتے ہوئے کارواں زندگی کے
کہاں ہیں کہاں ہیں محافظ خودی کے
ثنا خوانِ تقدیسِ مشرق کہاں ہیں؟
یہ پر پیج گلیاں یہ بے خواب بازار
یہ گمنام راہی یہ سِکّوں کی جھنکار
یہ عصمت کے سودے یہ سودوں پہ تکرار
ثنا خوانِ تقدیس مشرق کہاں ہیں؟
تعفّن سے پر نیم روشن یہ گلیاں
یہ مسلی ہوئی ادھ کھلی زرد کلیاں
یہ بکتی ہوئی کھوکلی رنگ رلیاں
ثنا خوانِ تقدیسِ مشرق کہاں ہیں؟
وہ اجلے دریچوں میں پائل کی چھن چھن
تنفس کی الجھن پہ طبلے کی دھن دھن
یہ بے روح کمروں میں کھانسی کی ٹھن ٹھن
ثنا خوان تقدیسِ مشرق کہاں ہیں؟
یہ گونجے ہوئے قہقہے راستوں پر
یہ چاروں طرف بھیڑ سی کھڑکیوں پر
یہ آواز کھنچتے ہوئے آنچلوں پر
ثنا خوانِ تقدیس مشرق کہاں ہیں؟
یہ پھولوں کے گجرے یہ پیکوں کے چھینٹے
یہ بے باک نظریں یہ گستاخ فقرے
یہ ڈھلکے بدن اور یہ مدقوق چہرے
ثنا خوانِ تقدیس مشرق کہاں ہیں؟
یہ بھوکی نگاہیں حسینوں کی جانب
یہ بڑھتے ہوئے ہاتھ سینوں کی جانب
لپکتے ہوئے پاؤں زینوں کی جانب
ثنا خوان تقدیس مشرق کہاں ہیں؟
یہاں پیر بھی آچکے ہیں جواں بھی
تنو مند بیٹے بھی، ابا میاں بھی
یہ بیوی بھی ہے اور بہن بھی ہے ماں بھی
ثنا خوان تقدیسِ مشرق کہاں ہیں؟
بلاؤ خدایانِ دین کو بلاؤ
یہ کوچے، یہ گلیاں، یہ منظر دکھاؤ
ثنا خوانِ تقدیس مشرق کو لاؤ
ثنا خوانِ تقدیس مشرق کہاں ہیں؟


ساحر لدھیانوی 
مکمل تحریر >>

اتوار، 24 مئی، 2015

تیرا دل تو ہے صنم آشنا ،تجھے کیا ملےگا نماز میں

کبھی اے حقیقتِ منتظر نظر آ لباسِ مجاز میں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں میری جبینِ نیاز میں

طرب آشنائے خروش ہو،تو نوائے محرم گوش ہو
وہ سرود کیا کہ چھپا ہوا ہو سکوت پردہء ساز میں

تو بچا بچا کہ نہ رکھ اسے، تیرا آئینہ ہے وہ آئینہ
جو شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہِ آئینہ ساز میں

دم طوف کرمک شمع نےیہ کہا کہ وہ اثر کہن
نہ تری حکایت سوز میں،نہ مری حدیث گداز میں

نہ کہیں جہاں میں اماں ملی جو اماں ملی تو کہاں ملی
مرے جرمِ خانہ خراب کو ترے عفوِ بندہ نواز میں

نہ وہ عشق میں رہیں گرمیاں ،نہ وہ حسن میں رہیں شوخیاں
نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی،نہ وہ خم ہے زلفِ ایاز میں

جو میں سر بسجدہ ہوا کبھی، تو زمیں سے آنے لگی صدا
تیرا دل تو ہے صنم آشنا ،تجھے کیا ملےگا نماز میں
 
مکمل تحریر >>

بدھ، 20 مئی، 2015

یہ ہے میکدہ یہاں رِند ہيں یہاں سب کا سَاقی اَمام ہے


یہ ہے میکدہ یہاں رِند ہيں، یہاں سب کا ساقی امام ہے
یہ حرم نہیں ہے اے شيخ جی ، یہاں پارسائی حرام ہے

جو ذرا سی پی کے بہک گیا، اسے میکدے سے نکال دو
یہاں تنگ نظر کا گزر نہیں، یہاں اہلِ ظرف کا کام ہے

کوئی مست ہے کوئی تشنہ لب، تو کسی کے ہاتھ میں جام ہے
مگر اس پہ کوئی کرے بھی کیا، یہ تو میکدے کا نظام ہے

یہ جناب شیخ کا فلسفہ ہے، عجیب سارے جہاں سے
جو وہاں پیو تو حلال ہے، جو یہاں پیو تو حرام ہے

اس کائنات میں اے جگر، کوئی انقلاب اٹھے گا پھر
کہ بلند ہو کے آدمی، ابھی خواہشوں کا غلام ہے 



مکمل تحریر >>

بدھ، 29 اپریل، 2015

وین دفتر بی‌معنی غرق می ناب اولی

این خرقہ کہ من دارم در رہن شراب اولی  -  وین دفتر بی‌معنی غرق می ناب اولی
چون عمر تبہ کردم چندان کہ نگہ کردم  - در کنج خراباتی افتاده خراب اولی
چون مصلحت اندیشی دور است ز درویشی  - ہم سینہ پر از آتش ہم دیده پرآب اولی
من حالت زاہد را با خلق نخواہم گفت -  این قصہ اگر گویم با چنگ و رباب اولی
تا بی سر و پا باشد اوضاع فلک زین دست  -  در سر ہوس ساقی در دست شراب اولی
از ہمچو تو دلداری دل برنکنم آری  - چون تاب کشم باری زان زلف بہ تاب اولی
چون پیر شدی حافظ از میکده بیرون آی  - رندی و ہوسناکی در عہد شباب اولی

(خیالی تصویر)
مکمل تحریر >>

بدھ، 8 اپریل، 2015

تذکیر نبیۂ مریخ


ای زنان ای مادران ای خواہران
زیستن تا کی مثال دلبران
دلبری اندر جہان مظلومی است
دلبری محکومی و محرومی است
در دو گیسو شانہ گردانیم ما
مرد را نخچیر خود دانیم ما
مرد صیادی بہ نخچیری کند
گرد تو گردد کہ زنجیری کند
خود گدازیہای او مکر و فریب
درد و داغ و آرزو مکر و فریب
گرچہ آن کافر حرم سازد ترا
مبتلای درد و غم سازد ترا
ہمبر او بودن آزار حیات
وصل او زھر و فراق او نبات
مار پیچان از خم و پیچش گریز
زہرہایش را بخون خود مریز
از امومت زرد روی مادران
ای خنک آزادی بی شوہران
وحی یزدان پی بہ پی آید مرا
لذت ایمان بیفزاید مرا
آمد آن وقتی کہ از اعجاز فن
می توان دیدن جنین اندر بدن
حاصلی برداری از کشت حیات
ہر چہ خواہی از بنین و از بنات
گر نباشد بر مراد ما جنین،
بی محابا کشتن او عین دین
در پس این عصر اعصار دگر
آشکارا گردد اسرار دگر
پرورش گیرد جنین نوع دگر
بی شب ارحام دریابد سحر
تا بمیرد آن سراپا اہرمن
ہمچو حیوانات ایام کہن
لالہ ہا بے داغ و با دامان پاک
بی نیاز از شبنمی خیزد ز خاک
خود بخود بیرون فتد اسرار زیست
نغمہ بی مضراب بخشد تار زیست
آنچہ از نیسان فرو ریزد مگیر
ای صدف در زیر دریا تشنہ میر
خیز و با فطرت بیا اندر ستیز
تا ز پیکار تو حر گردد کنیز
رستن از ربط دو تن توحید زن
حافظ خود باش و بر مردان متن
رومی
مذہب عصر نو آئینی نگر
حاصل تہذیب لادینی نگر
زندگی را شرع و آئین است عشق
اصل تہذیب است دین ، دین است عشق
ظاہر او سوزناک و آتشین
باطن او نور رب العالمین
از تب و تاب درونش علم و فن
از جنون ذوفنونش علم و فن
دین نگردد پختہ بی آداب عشق
دین بگیر از صحبت ارباب عشق
مکمل تحریر >>

دعوت من دعوت آخر زمان


در گذشتیم از ہزاران کوی و کاخ
بر کنار شہر میدان فراخ
اندر آن میدان ہجوم مرد و زن
در میان یک زن قدش چون نارون
چہرہ اش روشن ولی بی نور جان
معنی او بر بیان او گران
حرف او بی سوز و چشمش بی نمی
از سرور آرزو نامحرمی
فارغ از جوش جوانی سینہ اش
کور و صورت ناپذیر آئینہ اش
بیخبر از عشق و از آئین عشق
صعوۂ رد کردۂ شاہین عشق
گفت با ما آن حکیم نکتہ دان
’’نیست این دوشیزہ از مریخیان
سادہ و آزادہ و بی ریو و رنگ
فرز مرز او را بدزدید از فرنگ
پختہ در کار نبوت ساختش،
اندرین عالم فرو انداختش
گفت نازل گشتہ ام از آسمان
دعوت من دعوت آخر زمان
از مقام مرد و زن دارد سخن
فاش تر می گوید اسرار بدن
نزد این آخر زمان تقدیر زیست
در زبان ارضیان گویم کہ چیست
مکمل تحریر >>

زندگانی چیست کان گوہر است

مرغدین و آن عمارات بلند
من چہ گویم زان مقام ارجمند
ساکنانش در سخن شیرین جو نوش
خوب روی و نرم خوی و سادہ پوش
فکرشان بی درد و سوز اکتساب
رازدان کیمیای آفتاب
ہر کہ خواہد سیم و زر گیرد ز نور
چون نمک گیریم ما از آب شور
خدمت آمد مقصد علم و ہنر
کارہا را کس نمی سنجد بزر
کس ز دینار و درم آگاہ نیست
این بتان را در حرمہا راہ نیست
بر طبیعت دیو ماشین چیرہ نیست
آسمانہا از دخانھا تیرہ نیست
سخت کش دہقان چراغش روشن است
از نہاب دھخدایان ایمن است
کشت و کارش بی نزاع آب جوست
حاصلش بی شرکت غیری ازوست
اندر آن عالم نہ لشکر نی قشون
نی کسی روزی خورد از کشت و خون
نی قلم در مرغدین گیرد فروغ
از فن تحریر و تشہیر دروغ
نی بہ بازاران ز بیکاران خروش
نی صدا ہای گدایان درد گوش
 
حکیم مریخی
کس در اینجا سائل و محروم نیست
عبد و مولا حاکم و محکوم نیست
 
زندہ رود
سائل و محروم تقدیر حق است
حاکم و محکوم تقدیر حق است
جز خدا کس خالق تقدیر نیست
چارۂ تقدیر از تدبیر نیست
 
حکیم مریخی
گر ز یک تقدیر خون گردد جگر
خواہ از حق حکم تقدیر دگر
تو اگر تقدیر نو خواہی رواست
زانکہ تقدیرات حق لا انتہاست
ارضیان نقد خودی در باختند
نکتۂ تقدیر را نشناختند
رمز باریکش بحرفی مضمر است
تو اگر دیگر شوی او دیگر است
خاک شو نذر ہوا سازد ترا
سنگ شو بر شیشہ اندازد ترا
شبنمی؟ افتندگی تقدیر تست
قلزمی؟ پایندگی تقدیر تست
ہر زمان سازی ہمان لات و منات
از بتان جوئی ثبات ای بی ثبات‘‘
تا بخود ناساختن ایمان تست
عالم افکار تو زندان تست
رنج بی گنج است تقدیر اینچنین
گنج بی رنج است تقدیر اینچنین
اصل دین این است اگر ای بیخبر،
می شود محتاج ازو محتاج تر
وای آن دینی کہ خواب آرد ترا
باز در خواب گران دارد ترا
سحر و افسون است یا دین است این
حب افیون است یا دین است این
می شناسی طبع دراک از کجاست
حوری اندر بنگہ خاک از کجاست
قوت فکر حکیمان از کجاست
طاقت ذکر کلیمان از کجاست
این دل و این واردات او ز کیست
این فنون و معجزات او ز کیست
گرمی گفتار داری از تو نیست
شعلہ کردار داری از تو نیست
اینہمہ فیض از بہار فطرت است
فطرت از پرودگار فطرت است
زندگانی چیست کان گوہر است
تو امینی صاحب او دیگر است
طبع روشن مرد حق را آبروست
خدمت خلق خدا مقصود اوست
خدمت از رسم و رہ پیغمبری است
مزد خدمت خواستن سوداگری است
ہمچنان این باد و خاک و ابر و کشت
باغ و راغ و کاخ و کوی و سنگ و خشت
ایکہ میگوئی متاع ما ز ماست
مرد نادان این ہمہ ملک خداست
ارض حق را ارض خود دانی بگو
چیست شرح آیۂ لاتفسدوا
ابن آدم دل بہ ابلیسی نھاد
من ز ابلیسی ندیدم جز فساد
کس امانت را بکار خود نبرد
ایخوش آنکو ملک حق با حق سپرد
بردہ ئی چیزی کہ از آن تو نیست
داغم از کاری کہ شایان تو نیست
گر تو باشی صاحب شی می سزد
ور نباشے خود بگو کی می سزد
ملک یزدان را بہ یزدان باز دہ
تا ز کار خویش بگشائی گرہ
زیر گردن فقر و مسکینی چراست
آنچہ از مولاست میگوئی ز ماست
بندہ ئی کز آب و گل بیرون نجست
شیشۂ خود را بہ سنگ خود شکست
ایکہ منزل را نمی دانی ز رہ
قیمت ہر شی ز انداز نگہ
تا متاع تست گوہر ، گوہر است
ورنہ سنگ است از پشیزی کمتر است
نوع دیگر بین جھان دیگر شود
این زمین و آسمان دیگر شود
مکمل تحریر >>

اک نظرِ کرم اِدھر بھی مہربان !