Pages

تمہید

پیر، 16 مارچ، 2015

تمہارے پاس ہے کون آس پاس تو دیکھو



مرے غنیم نے مجھ کو پیام بھیجا ہے
کہ حلقہ زن ہیں مرے گرد لشکری اُس کے
فصیلِ شہر کے ہر برج ہر منارے پر
کماں بدست ستادہ ہیں عسکری اُس کے
وہ برق لہر بجھا دی گئی ہے جس کی تپش
وجودِ خاک میں آتش فشاں جگاتی تھی
بچھا دیا گیا بارود اُس کے پانی میں
وہ جوئے آب جو میری گلی کو آتی تھی

سبھی دریدہ دہن اب بدن دریدہ ہوئے
سپردِ دار و رسن سارے سر کشیدہ ہوئے

تمام صوفی و سالک سبھی شیوخ و امام
امیدِ لطف پہ ایوانِ کجکلاہ میں ہیں
معززینِ عدالت بھی حلف اٹھانے کو
مثالِ سائلِ مبرم نشستہ راہ میں ہیں

تم اہلِ حرف کے پندار کے ثناگر تھے
وہ آسمانِ ہنر کے نجوم سامنے ہیں
بس اِک مصاحبِ دربار کے اشارے پر
گداگرانِ سخن کے ہجوم سامنے ہیں

قلندرانِ وفا کی اساس تو دیکھو
تمہارے پاس ہے کون آس پاس تو دیکھو

سو یہ شرط ہے جو جاں کی امان چاہتے ہو
تو اپنے لوح و قلم قتل گاہ میں رکھ دو
وگرنہ اب کے نشانہ کمان داروں کا
بس ایک تم ہو، سو غیرت کو راہ میں رکھ دو

یہ شرط نامہ جو دیکھا تو ایلچی سے کہا
اُسے خبر نہیں تاریخ کیا سکھاتی ہے
کہ رات جب کِسی خورشید کو شہید کرے
تو صبح اِک نیا سورج تراش لاتی ہے

سو یہ جواب ہے میرا میرے عدو کے لئے
کہ مجھ کو حرصِ کرم ہے نہ خوفِ خمیازہ
اُسے ہے سطوتِ شمشیر پر گھمنڈ بہت
اُسے شکوہِ قلم کا نہیں ہے اندازہ

مرا قلم نہیں کردار اُس محافظ کا
جو اپنے شہر کو محصور کر کے ناز کرے
مرا قلم نہیں کاسہ کِسی سبک سر کا
جو غاصبوں کو قصیدوں سے سرفراز کرے

مرا قلم نہیں اس نقب زن کا دستِ ہوس
جو اپنے گھر کی ہی چھت میں شگاف ڈالتا ہے
مرا قلم نہیں اس دُزدِ نیم شب کا رفیق
جو بے چراغ گھروں پر کمند اُچھالتا ہے

مرا قلم نہیں تسبیح اس مبلّغ کی
جو بندگی کا بھی ہر دم حساب رکھتا ہے
مرا قلم نہیں میزان ایسے عادل کا
جو اپنے چہرے پہ دُہرا نقاب رکھتا ہے

مرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی
مرا قلم تو عدالت مرے ضمیر کی ہے
اسی لئے تو جو لکھا تپاکِ جاں سے لکھا
جبھی تو لوچ کماں کا، زبان تِیر کی ہے

میں کٹ گروں کہ سلامت رہوں یقیں ہے مجھے
کہ یہ حصارِ ستم کوئی تو گرائے گا
تمام عُمر کی ایذا نصیبیوں کی قسم
مرے قلم کا سفر رائیگاں نہ جائے گا

سرشتِ عشق نے افتادگی نہیں پائی
!تو قدِ سرو نہ بینی و سایہ پیمائی
مکمل تحریر >>

سُنا ہے حشر ہیں اُس کی غزال سی آنکھیں



سُنا ہے لوگ اُسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
سو اُس کے شہر میں کُچھ دِن ٹھہر کے دیکھتے ہیں
سُنا ہے رَبط ہے اُس کو خراب حالوں سے
سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں

سُنا ہے درد کی گاہک ہے چشمِ ناز اُس کی
سو ہم بھی اُس کی گلی سے گُزر کے دیکھتے ہیں
سُنا ہے اُس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف
سو ہم بھی معجزے اپنے ہُنر کے دیکھتے ہیں

سُنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں
سُنا ہے رات اُسے چاند تکتا رہتا ہے
ستارے بامِ فلک سے اُتر کے دیکھتے ہیں

سُنا ہے حشر ہیں اُس کی غزال سی آنکھیں
سُنا ہے اُس کو ہِرن دَشت بھر کے دیکھتے ہیں

سُنا ہے دِن کو اُسے تِتلیاں ستاتی ہیں
سُنا ہے رات کو جُگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں

سُنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکلیں اُس کی
سُنا ہے شام کو سائے ٹھہر کے دیکھتے ہیں

سُنا ہے اُس کی سیہ چشمگی قیامت ہے
سو اُس کو سُرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں

سُنا ہے اُس کے لبوں پہ گُلاب جلتے ہیں
سو ہم بہار پہ اِلزام دھر کے دیکھتے ہیں

سُنا ہے آئینہ تمثال ہے جبیں اُس کی
جو سادہ دِل ہیں اُسے بَن سنور کے دیکھتے ہیں

سُنا ہے جب سے حمائل ہیں اُس کی گردن میں
مزاج اور ہی لعل و گوہر کے دیکھتے ہیں

سُنا ہے اُس کے بدن کی تراش ایسی ہے
کہ پھول اپنی قبائیں کَتر کے دیکھتے ہیں

بس اِک نِگاہ سے لُٹتا ہے کافلہ دِل کا
سو رہروانِ تمنا بھی ڈر کے دیکھتے ہیں

سُنا ہے اُس کے شبستاں سے متصل ہے بہشت
مکیں اُدھر کی بھی جلوے اِدھر کے دیکھتے ہیں

رُکے تو گردشیں اُس کا طواف کرتی ہیں
چلے تو اُس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں
کِسے نصیب کہ بے پیراہن اُسے دیکھے
کبھی کبھی در و دیوار گھر کے دیکھتے ہیں

کہانیاں ہی سہی ، سب مُبالغے ہی سہی
اگر وہ خواب ہے ، تعبیر کر کے دیکھتے ہیں
اب اُس کے شہر میں ٹھہریں کہ کُوچ کر جائیں
فراز آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ہیں
مکمل تحریر >>

تو خدا ہے نہ ميرا عشق فرشتوں جيسا



اب کے ہم بچھڑے تو شايد کبھي خوابوں ميں مليں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں ميں مليں

ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں ميں وفا کے موتي
 يہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں ميں مليں

غم دنيا بھي غم يار ميں شامل کر لو
 نشہ بڑھتا ہے شرابيں جو شرابوں ميں مليں

تو خدا ہے نہ ميرا عشق فرشتوں جيسا 
دونوں انساں ہيں تو کيوں اتنے حجابوں ميں مليں

آج ہم دار پہ کھينچے گئے جن باتوں پر 
کيا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں ميں مليں

اب نہ وہ ہیں، نہ وہ تُو ہے، نہ وہ ماضی ہے فرازؔ
جیسے دو شخص تمّنا کے سرابوں میں ملیں
مکمل تحریر >>

ابھی تو میں جوان ہوں

ابھی تو میں جوان ہوں 

ہوا بھی خوش گوار ہے 
گلوں پہ بھی نکھار ہے 
ترنّمِ ہزار ہے 
بہارِ پُر بہار ہے 

کہاں چلا ہے ساقیا 
اِدھر تو لوٹ، اِدھر تو آ 
یہ مجھ کو دیکھتا ہے کیا 
اٹھا سبُو، سبُو اٹھا 

سبُو اٹھا، پیالہ بھر 
پیالہ بھر کے دے اِدھر 
چمن کی سمت کر نظر 
سماں تو دیکھ بے خبر 

وہ کالی کالی بدلیاں 
افق پہ ہو گئیں عیاں 
وہ اک ہجومِ مے کشاں 
ہے سوئے مے کدہ رواں 

یہ کیا گماں ہے بد گماں 
سمجھ نہ مجھ کو ناتواں 
خیالِ زہد ابھی کہاں 
ابھی تو میں جوان ہوں 

عبادتوں کا ذکر ہے 
نجات کی بھی فکر ہے 

جنون ہے ثواب کا 
خیال ہے عذاب کا 

مگر سنو تو شیخ جی 
عجیب شے ہیں آپ بھی 
بھلا شباب و عاشقی 
الگ ہوئے بھی ہیں کبھی 

حسین جلوہ ریز ہوں 
ادائیں فتنہ خیز ہوں 
ادائیں عطر بیز ہوں 
تو شوق کیوں نہ تیز ہوں 

نگار ہائے فتنہ گر 
کوئی اِدھر کوئی اُدھر 
ابھارتے ہوں عیش پر 
تو کیا کرے کوئی بشر 

چلو جی قصّہ مختصر 
تمھارا نقطۂ نظر 
درست ہے تو ہو مگر 

ابھی تو میں جوان ہوں 

نہ غم کشود بست کا 
بلند کا نہ پست کا 
نہ بود کا نہ ہست کا 
نہ وعدۂ الست کا 

امید اور یاس گم 
حواس گم، قیاس گم 
نظر کے آس پاس گم 
ہمہ بجز گلاس گم 

نہ مے میں کچھ کمی رہے 
قدح سے ہمدمی رہے 
نشست یہ جمی رہے 
یہی ہما ہمی رہے 

وہ راگ چھیڑ مطربا 
طرب فزا، الم رُبا 
جگر میں آگ دے لگا 
ہر ایک لپ پہ ہو صدا 
پلائے جا پلائے جا 

ابھی تو میں جوان ہوں 

یہ گشت کوہسار کی 
یہ سیر جوئبار کی 

یہ بلبلوں کے چہچہے 
یہ گل رخوں کے قہقہے 

کسی سے میل ہو گیا 
تو رنج و فکر کھو گیا 
کبھی جو بخت سو گیا 
یہ ہنس گیا وہ رو گیا 

یہ عشق کی کہانیاں 
یہ رس بھری جوانیاں 
اِدھر سے مہربانیاں 
اُدھر سے لن ترانیاں 

یہ آسمان یہ زمیں 
نظارہ ہائے دل نشیں 
انھیں حیات آفریں 
بھلا میں چھوڑ دوں یہیں 
ہے موت اس قدر قریں 
مجھے نہ آئے گا یقیں 
نہیں نہیں ابھی نہیں 

ابھی تو میں جوان ہوں
مکمل تحریر >>

اک نظرِ کرم اِدھر بھی مہربان !