دلت می لرزد از اندیشہ مرگ
زبیمش زرد مانند زریری
بخود باز آ، خودی را پختہ تر گیر
اگر گیری، پس از مردن نہ میری
دل بے باک را ضرغام رنگ است
دل ترسندہ را آہو پلنگ است
اگر بیمی نداری، بحر صحر است
اگر ترسی بہر موجش نہنگ است
بہ گوشم آمد از خاک مزارے
کہ در زیر زمیں ہم می تواں زیست
نفس دارد و لیکن جاں نہ دارد
کسے کو بر مراد دیگراں زیست
گر بہ اللہ الصمد دل بستہ ای
از حد اسباب بیروں جستہ ای
بندہ حق، بندہ اسباب نیست
زندگانی گردش دولاب نیست
اقبال کے نفس سے ہے لالے کی آگ تیز
ایسے غزل سرا کو چمن سے نکال دو
0 تبصرے:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔