Pages

تمہید

پیر، 16 مارچ، 2015

خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوۂ دانش فرنگ



میرِ  سپاہ  ناسزا،  لشکر یاں  شکستہ  صف
آہ! وہ تیرِ نیم کش جس کا نہ ہو کوئی ہدف

تیرے   محیط  میں  کہیں   گوہرِ   زندگی   نہیں
ڈھونڈ چکا میں موج موج، دیکھ چکا صدف صدف

عشقِ بتاں سے ہاتھ اٹھا، اپنی خودی میں ڈوب جا
نقش  و  نگار  دَیر   میں   خونِ   جگر  نہ  کر  تلف

کھول کے کیا بیاں کرو سرِ مقامِ مرگ و عشق
عشق ہے مرگِ باشرف،  مرگ حیاتِ  بے شرف

صحبتِ پیرِ روم سے مجھ پہ ہوا یہ راز فاش
لاکھ حکیم سر بجیب ، ایک کلیم  سر بکف

مثلِ  کلیم   ہو   اگر   معرکہ    آزما    کوئی
اب بھی درختِ طور سے آتی ہے بانگِ لاتخف

خیرہ نہ  کر  سکا  مجھے  جلوۂ  دانش  فرنگ
سرمہ  ہے میری آنکھ کا خاک مدینہ  و  نجف

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


اک نظرِ کرم اِدھر بھی مہربان !