Pages

تمہید

پیر، 16 مارچ، 2015

کعبہ مرے پیچھے ہے، کلیسا، مرے آگے



بازیچہٴ اطفال ہے دنیا مرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے

اک کھیل ہے اورنگِ سلیماں، مرے نزدیک
اک بات ہے اعجازِ مسیحا، مرے آگے

جزنام، نہیں صورت عالم، مجھے منظور
جزوہم، نہیں ہستی اشیاء، مرے آگے

ہوتا ہے نہاں گرد میں صحرا، مرے ہوتے
گھستا ہے جبیں خاک پہ دریا مرے آگے

مت پوچھ کہ کیا حال ہے میرا، ترے پیچھے
تو دیکھ کہ کیا رنگ ہے تیرا، مرے آگے

سچ کہتے ہو خودبین و خود آرا ہوں، نہ کیوں ہوں
بیٹھا ہے بت آئینہ سیما، مرے آگے

پھر دیکھئے انداز گل افشانی گفتار
رکھ دے کوئی پیمانہٴ صہبا، مرے آگے

نفرت کا گماں گزرے ہے، میں ر شک سے گزرا
کیوں کر کہوں ”لونام نہ ان کا مرے آگے

ایماں مجھے روکے ہے، جو کھینچے ہے مجھے کفر
کعبہ مرے پیچھے ہے، کلیسا، مرے آگے

عاشق ہوں، پہ معشوق فریبی ہے مرا کام
مجنوں کو برا کہتی ہے، لیلیٰ، مرے آگے

خوش ہوتے ہیں، پر وصل میں یوں مر نہیں جاتے
آئی شبِ ہجراں کی تمنا، مرے آگے

ہے موج زن اک قلزمِ خوں، کاش، یہی ہو
آتا ہے، ابھی دیکھئے، کیا کیا، مرے آگے

گو ہاتھ کو جنبش نہیں، آنکھوں میں تو دم ہے
رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے

ہم پیشہ وہم مشرب وہم راز ہے میرا
غالب کو برا کیوں کہو؟ اچھا مرے آگے

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


اک نظرِ کرم اِدھر بھی مہربان !