Pages

تمہید

پیر، 16 مارچ، 2015

قوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیں


قوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیں
جذب  باہم  جو  نہیں ،  محفل ِ انجم بھی نہیں

تو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سے
نشہ   قے  کو  تعلق   نہیں   پیمانے   سے

اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم ِ رسولِ ہاشمی

دامن دیں ہاتھ سے چھوٹا تو جمعیت کہاں
اور جمعیت ہوئی رخصت تو ملت بھی گئی

یہی مقصود فطرت ہے یہی رمز مسلمانی
اخوت کی جہانگیری ، محبت کی فراوانی

بتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہوجا
نہ  تورانی   رہے   باقی  ،  نہ   ایرانی  نہ  افغانی

ہوس نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے نوع انساں کو
اخوت کا بیاں ہو جا ، محبت  کی  زباں ہو جا

یہ ہندی ، وہ خراسانی ، یہ افغانی ، وہ تورانی
تو اے شرمندہ ساحل ، اچھل کر بیکراں ہوجا

ربط ملت و ضبط ملت بیضا ہے مشرق کی نجات
ایشیا والے ہیں اس نکتے سے  اب  تک  بے خبر

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے
نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاک کاشغر

نسل گر مسلم کی مذہب پر مقدم ہوگئی
اڑ گیا دنیا سے تو  مانند  خاک  رہ  گزر

اس دور میں قوموں کی محبت بھی ہوئی عام
پوشیدہ   نگاہوں   سے   رہی   وحدت   آدم

تفریق ملل حکمت افرنگ کا مقصود
اسلام  کا  مقصود  فقط  ملت  آدم

مکہ نے دیا خاک جینو ا کو یہ پیغام
جمعیت   اقوام   ہے  جمعیت   آدم

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


اک نظرِ کرم اِدھر بھی مہربان !