Pages

تمہید

پیر، 16 مارچ، 2015

با قرأت مسجد ہا با دانش مکتب ہا



من ہیچ  نمی ترسم  از حادثۂ  شب  ہا
شبہا کہ سحر گردد از گردش کوکب ہا

نشناخت  مقام   خویش  افتاد  بدام  خویش
عشقی کہ نمودی خواست از شورش یارب ہا

آہی کہ ز دل خیزد از  بہر جگر سوزی است
در  سینہ  شکن  او  را  آلودہ  مکن  لب  ہا

در میکدہ باقی نیست از ساقی فطرت خواہ
آن می کہ نمی گنجد  در شیشۂ مشرب ہا

آسودہ نمی گردد آندل کہ گسست از دوست
با  قرأت  مسجد ہا   با   دانش  مکتب  ہا

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


اک نظرِ کرم اِدھر بھی مہربان !