من ہیچ نمی ترسم از حادثۂ شب ہا
شبہا کہ سحر گردد از گردش کوکب ہا
نشناخت مقام خویش افتاد بدام خویش
عشقی کہ نمودی خواست از شورش یارب ہا
آہی کہ ز دل خیزد از بہر جگر سوزی است
در سینہ شکن او را آلودہ مکن لب ہا
در میکدہ باقی نیست از ساقی فطرت خواہ
آن می کہ نمی گنجد در شیشۂ مشرب ہا
آسودہ نمی گردد آندل کہ گسست از دوست
با قرأت مسجد ہا با دانش مکتب ہا
0 تبصرے:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔