Pages

تمہید

پیر، 16 مارچ، 2015

دلِ خستہ جو لہو ہوگیا، تو بھلا ہوا کہ کہاں تلک



کئی دن سلوک وداع کا مرے درپئے دلِ زار تھا
کبھو درد تھا، کبھو داغ تھا، کبھو زخم تھا، کبھو وار تھا

دمِ صبح بزمِ خوشِ جہاں، شب غم سے کم نہ تھے مہرباں
کہ چراغ تھا سو تو دُود تھا، جو پتنگ تھا سو غبار تھا

دلِ خستہ جو لہو ہوگیا، تو بھلا ہوا کہ کہاں تلک
کبھوسوز سینہ سے داغ تھا ، کبھو درد و غم سے فگار تھا

دل مضطرب سے گزرگئی، شبِ وصل اپنی ہی فکر میں
نہ دماغ تھا، نہ فراغ تھا، نہ شکیب تھا، نہ قرار تھا

جو نگاہ کی بھی پلک اٹھا تو ہمارے دل سے لہو بہا
کہ وہیں وہ ناوکِ بے خطا، کسو کے کلیجے کے پار تھا

یہ تمہاری ان دنوں دوستاں مژہ جس کے غم میں ہے خونچکاں
وہی آفتِ دلِ عاشقاں، کسو وقت ہم سے بھی یار تھا

نہیں تازہ دل کی شکستگی، یہی درد تھا، یہی خستگی
اُسے جب سے ذوقِ شکار تھا، اِسے زخم سے سروکار تھا

کبھو جائے گی جو اُدھر صبا تو یہ کہیو اُس سے کہ بے وفا
مگر ایک میر شکستہ پا، ترے باغِ تازہ میں خار تھا 

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


اک نظرِ کرم اِدھر بھی مہربان !