Pages

تمہید

پیر، 16 مارچ، 2015

شگفتہ شگفتہ بہانے ترے



وہ باتیں تری وہ فسانے ترے
شگفتہ   شگفتہ  بہانے  ترے

بس اک داغِ سجدہ مری کائنات 
جبینیں تری ، آستانے ترے 

بس اک زخمِ نظّارہ، حصّہ مرا 
بہاریں تری ، آشیانے ترے 

فقیروں کا جمگھٹ گھڑی دو گھڑی 
شرابیں تری ، بادہ خانے ترے 

ضمیرِ صدف میں کرن کا مقام 
انوکھے انوکھے ٹھکانے ترے 

بہار و خزاں کم نگاہوں کے وہم 
برے یا بھلے، سب زمانے ترے 

عدم بھی ہے تیرا حکایت کدہ 
کہاں تک گئے ہیں فسانے ترے

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


اک نظرِ کرم اِدھر بھی مہربان !