Pages

تمہید

پیر، 16 مارچ، 2015

اس کھیت کے ہر خوشہٴ گندم کو جلا دو

اٹھو میری  دنیا  کے  غریبوں  کو  جگا  دو
کاخِ   امراء   کے    در   و   دیوار    ہلا   دو

گرماؤ   غلاموں  کا   لہو   سوزِ  یقیں   سے
کنجشک  فرومایہ  کو  شاہیں  سے  لڑا   دو

میں ناخوش و بیزار ہوں مرمر کی سلوں سے
میرے   لئے   مٹی   کا   حرم   اور   بنا   دو

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے  ہر خوشہٴ گندم  کو  جلا  دو

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


اک نظرِ کرم اِدھر بھی مہربان !