Pages

تمہید

پیر، 16 مارچ، 2015

امت پہ تیری آکے عجب وقت پڑا ہے



اے خاصۂ خاصانِ رسل وقت دعا ہے
امت پہ تیری آکے عجب وقت پڑا ہے

جو دین بڑی شان سے نکلا تھا وطن سے
پر دیس  میں  وہ  آج  غریب  الغرباء  ہے

فریاد  ہے  اے کشتی  امت  کے  نگہباں
بیڑا  یہ  تباہی  کے  قریب  آن  لگا  ہے

اے  چشمہ  زمت  بابی  انت  و  امی
دنیا  پہ  تیرا  لطف  سدا عام رہا  ہے

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


اک نظرِ کرم اِدھر بھی مہربان !