اُس سمت مجھ کو یار نے جانے نہیں دیا
اک اور شہرِ یار میں آنے نہیں دیا
کچھ وقت چاہتے تھے کہ سوچیں تیرے لیئے
تو نے وہ وقت ہم کو زمانے نہیں دیا
منزل ہے اِس مہک کی کہاں کس چمن میں ہے
اِس کا پتہ سفر میں ہوا نے نہیں دیا
روکا انّا نے کاوشِ بے سود سے مجھے
اُس بُت کو اپنا حال سنانے نہیں دیا
ہے اِس کے بعد عہدِ زوال آشنا میر
اتنا کمال ہم کو خدا نے نہیں دیا
0 تبصرے:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔