خبرم رسید امشب کہ نگار خواہی آمد
سر من فدای راہی کہ سوار خواہی آمد
بہ لبم رسیده جانم ، تو بیا کہ زنده مانم
پس از آں کہ من نمانم، بہ چہ کار خواہی آمد
غم و قصہ فراقت بکشد چناں کہ دانم
اگرم چو بخت روزی بہ کنار خواہی آمد
منم و دلے و آہے . ره تو دروں ایں دل
مرو ایمن اندر ایں ره کہ فگار خواہی آمد
همہ آہواں صحرا سر خود گرفتہ بر کف
بہ امید آں کہروزی بہ شکار خواہی آمد
کششے کہ عشق دارد نگذاردت بدینساں
بہ جنازه گر نیائی ، بہ مزار خواہی آمد
بہ یک آمدن ربودی، دل و دین و جان خسرو
چہ شود اگر بدیسان دو سہ بار خواہی آمد
0 تبصرے:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔