Pages

تمہید

پیر، 16 مارچ، 2015

وہ ترا کوٹھے پہ ننگے پاؤں آنا یاد ہے



چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یا دہے
ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانہ یادہے
 
بار بار اٹھنا اسی جانب نگاہ شوق کا
اور تیر ا غرفے سے وہ آنکھیں لڑانا یاد ہے 

با ہزاراں اضطراب و صد ہزاراں اشتیاق
تجھ سے وہ پہلے پہل دل کا لگانا یاد ہے

تجھ سے کچھ ملتے ہی وہ بے باک ہو جانا مرا  
اور ترا دانتوں میں وہ انگلی دبانا یاد ہے 

کھینچ لینا وہ مرا پردے کا کونا دفعتاً 
اور دوپٹے سے ترا وہ منہ چھپانا یاد ہے 


جان کرسونا تجھے وہ قصد ِ پا بوسی مرا  
اور ترا ٹھکرا کے سر، وہ مسکرانا یاد ہے 

تجھ کو جب تنہا کبھی پانا تو ازراہِ لحاظ
حال ِ دل باتوں ہی باتوں میں جتانا یاد ہے 

جب سوا میرے تمہارا کوئی دیوانہ نہ تھا 
سچ کہو کچھ تم کو بھی وہ کارخانا یاد ہے 

غیر کی نظروں سے بچ کر سب کی مرضی کے خلاف 
وہ ترا چوری چھپے راتوں کو آنا یاد ہے 

آ گیا گر وصل کی شب بھی کہیں ذکر ِ فراق 
وہ ترا رو رو کے مجھ کو بھی رُلانا یاد ہے 

دوپہر کی دھوپ میں میرے بُلانے کے لیے
وہ ترا کوٹھے پہ ننگے پاؤں آنا یاد ہے

آج تک نظروں میں ہے وہ صحبتِ راز و نیاز
اپنا جانا یاد ہے،تیرا بلانا یاد ہے

میٹھی میٹھی چھیڑ کر باتیں نرالی پیار کی 
ذکر دشمن کا وہ باتوں میں اڑانا یاد ہے 

دیکھنا مجھ کو جو برگشتہ تو سو سو ناز سے 
جب منا لینا تو پھر خود روٹھ جانا یاد ہے 

چوری چوری ہم سے تم آ کر ملے تھے جس جگہ 
مدتیں گزریں،پر اب تک وہ ٹھکانہ یاد ہے 

شوق میں مہندی کے وہ بے دست و پا ہونا ترا 
اور مِرا وہ چھیڑنا، گُدگدانا یاد ہے 

با وجودِ ادعائے اتّقا حسرت مجھے 
آج تک عہدِ ہوس کا وہ فسانا یاد ہے

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


اک نظرِ کرم اِدھر بھی مہربان !